.

شام اور عراق کے جعلی پاسپورٹ یورپ کی تشویش کا باعث!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یورپی_یونین کے ممالک کی وزارت داخلہ کونسل نے #داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے عراقی اور شامی پاسپورٹ حاصل کرنے سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے امور سے متعلق یورپی یونین کے کوآرڈینیٹر Gilles de Kerchove کی جانب سے کونسل کے وزراء کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں یونین کے رکن ممالک پر اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اس موقع پر #فرانس نے تجویز پیش کی کہ شناختی دستاویزات کی ٹکنالوجی کے خصوصی ماہرین کو #یونان اور #اٹلی میں تارکین وطن اور مہاجرین کی چھانٹی کے مراکز بھیجا جائے تاکہ سیکورٹی کا نمایاں خطرہ بن جانے والے اس مسئلے سے نمٹا جاسکے۔ پیرس حملوں کی تحقیق کرنے والے فرانسیسی تحقیق کار دو خودکش حملہ آوروں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

یہ دونوں افراد شامی پاسپورٹ کے ذریعے ملک میں داخل ہوئے تھے جب کہ بعد میں واضح ہوگیا کہ دونوں حملہ آور عراقی تھے۔ سیکورٹی تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ آسٹریا میں گرفتار دو افراد 3 اکتوبر کو یونان کے راستے جعلی شناخت پر داخل ہوئے۔

شک ہے کہ یہ دونوں افراد اس چوتھے گروپ کے ارکان ہوسکتے ہیں جو ممکنہ طور پر پیرس حملوں کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا یا پھر کسی دوسرے یورپی ملک میں دہشت گرد حملوں کی تیاری کررہا تھا۔

سیکورٹی ذرائع نے "انٹرپول" کے حوالے سے بتایا ہے کہ #شام اور #عراق میں سرکاری صدر دفاتر سے چوری کیے جانے والے پاسپورٹوں کی تعداد 2 لاکھ 35 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان میں بعض پاسپورٹ تارکین وطن کی یونان اسمگلنگ میں استعمال ہوئے۔