.

فرانس لیبی عہدے داروں کے خلاف پابندیاں تجویز کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کی راہ میں حائل ہونے والے عہدے داروں کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں تجویز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آریو نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میں انھیں پابندیوں کی دھمکی سے آزاد نہیں کررہا ہوں۔صورت واقعہ کچھ ہی ہو میں آیندہ سوموار کو برسلز میں اپنے خارجہ امور کے ہم منصبوں کو پابندیوں کی تجویز پیش کروں گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک طویل عرصہ تک انتظار نہیں کرسکتے ہیں''۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام میں ذاتی مفاد کی خاطر حائل ہونے والوں کی مذمت کی ہے۔

برسلز میں ایک سفارتی ذریعے نے بتایا ہے کہ فرانسیسی تجویز کے تحت لیبی عہد داروں پر یورپ آنے پر پابندی عاید کر دی جائے گی اور ان کے اثاثے منجمد کر لیے جائیں گے۔ان پابندیوں کا ہدف لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح اور طرابلس میں جنرل نیشنل کانگریس کے اسپیکر نوری ابو سہمین اور اس حکومت کے سربراہ خلیفہ غویل ہوں گے۔

اس سفارتی ذریعے کے بہ قول دو یا تین لوگوں سے زیادہ پابندیاں عاید نہیں کی جائیں گی کیونکہ اگر سب پر ہی پابندیاں عاید کردی جاتی ہیں تو پھر مذاکرات کس سے کیے جائیں گے۔اس ذریعے کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ پابندیاں موثر ثابت ہوں گی کیونکہ لیبی سیاست دان خریداری اور علاج معالجے کے لیے مالٹا اور اٹلی آتے جاتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں لیبیا کی متحارب حکومتوں کے درمیان جنوری میں فائزالسراج کی سربراہی میں قومی اتحاد کی حکومت پر اتفاق رائے ہوا تھا لیکن اس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان نے مسترد کردیا تھا۔مشرقی شہر طبرق میں قائم اس پارلیمان نے بعد میں نظرثانی شدہ کابینہ کی منظوری بھی نہیں دی تھی اور اب تک کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے نئی کابینہ اس سے اعتماد کا ووٹ حاصل نہیں کرسکی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''اس وقت ایک وزیر اعظم مسٹر سراج موجود ہیں۔وہ قومی اتحاد کی حکومت کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ارکان پارلیمان کی اکثریت بھی اس کے حق میں ہے لیکن پارلیمان میں رکاوٹوں کی وجہ سے اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم اس صورت حال کو جاری نہیں رکھ سکتے۔یہ لیبی عوام ،پورے خطے اور یورپ کے لیے خطرناک ہے''۔فرانس کو اب لیبی عہدے داروں پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے یورپی یونین کے رکن دوسرے ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے۔برطانیہ اس کی حمایت کررہا ہے لیکن بہت سے ممالک اقوام متحدہ کی حمایت کے بغیر ان پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں۔

ژاں آریو پابندیوں کی اس تجویز کو پیرس میں امریکا،برطانیہ ،اٹلی ،جرمنی کے وزرائے خارجہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی کے اجلاس میں بھی پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ فرانس نے لیبیا کے مطلق العنان صدر معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی فوجی مہم کی قیادت کی تھی لیکن 2011ء میں قذافی کی اقتدار سے رخصتی اور اندوہناک موت کے بعد سے لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں سمجھوتا طے پانے کے باوجود قومی اتحاد کی حکومت قائم نہیں ہوسکی ہے۔

لیبیا میں متحارب ملیشیائیں ایک دوسرے کے علاقوں اور شہروں پر قبضے کے لیے باہم محاذ آراء ہیں۔اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر داعش نے بھی لیبیا میں اپنے قدم جمالیے ہیں۔اس کے جنگجوؤں نے مقتول قذافی کے آبائی شہر سرت پر گذشتہ سال سے قبضہ کررکھا ہے اور وہ اب دوسرے شہروں اور قصبوں کی جانب پیش قدمی کی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔