.

صدراوباما کو شامی رجیم پر بمباری نہ کرنے کے فیصلے پر فخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر کوئی فوجی کارروائی نہ کرنے کا کوئی افسوس نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں شامی رجیم کے خلاف ''سرخ لکیر'' عبور کرنے کے باوجود بمباری نہ کرنے کے فیصلے پر فخر ہے۔

اٹلانٹک میگزین میں جمعرات کو شائع شدہ ایک انٹرویو میں صدر اوباما نے کیمیائی حملے پر شام کے خلاف ممکنہ فوجی حملوں کے فیصلے سے پھر جانے کا دفاع کیا ہے جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا شامی رجیم پر فضائی حملے کرتا تو اس سے شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری تباہ کن جنگ کا رُخ مڑ سکتا تھا۔

صدراوباما کو شامی رجیم پر چڑھائی نہ کرنے پر کوئی افسوس یا ندامت نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ''ہماری قومی سلامتی کی مشینری نے روایتی دانش مندی سے کام لیا تھا اور اس نے بالکل درست فیصلہ کیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''عمومی ادراک یہ تھا کہ میری ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی۔امریکا کی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔اس لمحے مجھے وقفے کا بٹن ہی دبانا تھا۔میں جانتا تھا کہ اس کا مجھے سیاسی لحاظ سے خمیازہ بھگتنا پڑے گا''۔

ناقدین یہ کہتے رہے ہیں کہ براک اوباما کے فیصلے سے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے اور یہ اب بآسانی اور جلد بحال نہیں ہوگی۔

مگر امریکی صدر نے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''حقیقت یہ ہے کہ میں دباؤ سے فوری طور پر نکل آیا تھا۔پھر میں نے اپنے ذہن سے سوچا کہ شام اور جمہوریت کے مفاد کے حوالے سے امریکا کے مفاد میں کیا بہتر ہے۔میرے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا۔میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ بالآخر ایک درست فیصلہ کیا گیا تھا''۔