.

ایران کے لئے جاسوسی کے ملزمان کی سعودی عدالت میں پیشی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت میں ایران کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار 32 افراد کے مقدمات کی سماعت جاری ہے اور پیر کے روز عدالت میں ان افراد کے دوران تفتیش کئے جانے والے اعترافات اور ان کی جانب سے چارج شیٹ کے زبانی یا تحریر شدہ جوابات کو پیش کیا جائیگا۔

ان جاسوسوں میں 30 سعودی، ایک ایرانی اور ایک افغانی شہری شامل ہیں۔ سعودی عرب کے مقامی اخبار روزنامہ مکہ عربی کے مطابق ان جاسوسوں کو دو گروپوں میں تقسیم کرکے عدالت کے سامنے پیش کیا جائیگا۔

عدالت نے 23 فروری کو ہونے والی پہلی سماعت کے بعد تمام مدعا علیہان کو ان کے خلاف الزامات کی فہرست دی گئی تھی۔ جج نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ دوسری سماعت سے پہلے ان الزامات کے جواب تیار کرلیں۔ انہوں نے ملزمان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ وکیل چن لیں یا عدالت کو یہ اختیار دے دیں۔

عدالتی ذرائع کے مطابق سعودی اٹارنی جنرل نے ان میں 25 افراد کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سلطنت سعودی عرب کے خلاف ان کی سازشیں ثابت ہوگئی تو انہیں فورا سزا سنا دی جائیگی۔

ان افراد پر غداری، ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات اور سعودی کی خفیہ فوجی اور سول معلومات کی ایران کو حوالگی کے الزامات ہیں۔

ان افراد پر مزید الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے ریاض میں موجود سفارتخانے اور جدہ کے قونصل خانے کے سفارتکاروں اور او آئی سی کے ایرانی مشن کے عہدیداروں سے رابطے بنا رکھے ہیں۔

عدالتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان مدعا علیہان میں ایک نیوکلئیر سائنسدان، ایک حج کمپنی کا مالک، حج ملٹری فورسز کا فوجی، ایک ماہر تعلیم شامل ہیں جبکہ دیگر افراد بنکار، حکومتی عہدیداران اور تاجر ہیں۔

عدالتی ذرائع کو اس وقت حیرت ہوئی کہ جب اٹارنی جنرل نے ایرانی باشندے کی سزائے موت کا مطالبہ نہیں کیا۔ ایرانی باشندہ عربی زبان روانی سے بول سکتا ہے اور اس نے اپنے لئے وکیل چننے سے انکار کردیا ہے۔ ان جاسوسوں کو 2013ء میں ماہ مارچ سے مئی کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔