.

ترکی کے عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

انقرہ میں بم حملے کے مہلوکین کی تعداد 37 ہوگئی ،15 زخمیوں کی حالت تشویش ناک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی فضائیہ نے شمالی عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر انقرہ میں خودکش کار بم دھماکے کے بعد بمباری کی ہے۔

ترکی کی سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو کی رپورٹ کے مطابق نو ایف 16 اور دو ایف 4 جیٹ طیاروں نے کالعدم کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) عراق کے شمال میں واقع قندیل کی پہاڑیوں سمیت اٹھارہ ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں اور ان میں اسلحہ ڈپوؤں ،بنکروں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ پولیس نے جنوبی شہر عدنہ میں چھاپا مار کارروائیوں کے دوران پی کے کے سے تعلق رکھنے والے اڑتیس مشتبہ کرد باغیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔استنبول سے پندرہ کرد جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

درایں اثناء ترکی کے وزیر صحت محمد معزین اوغلو نے کہا ہے کہ خودکش بم حملے میں زخمی ہونے والے تین اور افراد دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد انقرہ کے مصروف علاقے میں خودکش کار بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سینتیس ہوگئی ہے۔

خودکش حملہ آور نے بس اسٹاپ پر کھڑے لوگوں اور بسوں کو بارود سے بھری کار سے نشانہ بنایا تھا جس سے ایک سو پچیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ان میں شہر کے اکہتر مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ان میں سے پندرہ کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

ترک حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر دو بمباروں نے کیا تھا اور ان میں ایک عورت تھی۔انھوں نے کرد باغیوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

ترک دارالحکومت میں گذشتہ ایک ماہ کے عرصے میں یہ دوسرا خودکش بم حملہ تھا۔17 فروری کو ایک کار میں سوار خودکش بمبار نے فوجیوں کی بسوں کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزادی کے نام پر سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ایک کرد جنگجو گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ترکی میں جولائی 2015ء کے بعد خودکش بم دھماکوں میں قریباً دو سو دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان حملوں کا کرد باغیوں یا پھر عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ داعش پر الزام عاید کیا گیا ہے۔