.

شام کے لیے سچائی کا مرحلہ آگیا،کوئی پلان بی نہیں : مستورا

جنیوا میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان امن مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے کہا ہے کہ شام کے لیے سچائی کا مرحلہ آگیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ شام کے لیے کوئی پلان بی نہیں تھا بلکہ جنگ کی واپسی ہوگی۔

انھوں نے یہ بات سوموار کو جنیوا میں تین ادوار پر مشتمل شام امن مذاکرات کے پہلے دور کے آغاز کے موقع پر کہی ہے۔ان مذاکرات میں شام کے مستقبل کے حوالے سے ایک واضح لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ تمام فریقوں کو سنیں گے اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے دکھائی دیے اور انھیں امریکا اور روس کی قیادت میں بڑی طاقتوں کو بھی بلا بھیجنا پڑا تو وہ اس میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے''۔

انھوں نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''اس بات چیت اور آیندہ ادوار میں اگر ہمیں مذاکرات کے لیے کوئی رضا مندی نظر نہ آئی تو پھر ہم اس ایشو کو واپس ان کے پاس لے جائیں گے،جن کا اثرورسوخ ہے۔یہ روسی فیڈریشن ،امریکا اور سلامتی کونسل ہیں''۔

جنیوا میں یہ مذاکرات شام میں جاری جنگ بندی کے تناظر میں ہورہے ہیں۔امریکا اور روس کی ثالثی میں اس جنگ بندی کا صدر بشارالاسد اور ان کے مخالفین عمومی طور پر احترام کررہے ہیں۔گذشتہ پانچ سال میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی جنگ بندی ہے جس کے دوران بڑے پیمانے پر خونریزی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔اس سے یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ شاید شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے یہ سفارتی کوشش کامیاب ہوجائے جبکہ اس سے پہلے جنگ زدہ ملک میں لڑائی رکوانے کے لیے تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔

ڈی مستورا نے کہا کہ ''شام امن مذاکرات میں سیاسی انتقال اقتدار پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ''تمام ایشوز کی ماں'' ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میں جانتا ہوں پلان بی صرف جنگ کی جانب واپسی ہے اور یہ موجودہ سے بھی زیادہ خطرناک جنگ ہوسکتی ہے۔

جنیوا مذاکرات میں شریک تمام فریق شام میں جنگ کے بعد سیاسی انتقال اقتدار کے حق میں ہیں لیکن بشارالاسد اور ان کے مخالفین میں اس انتقال اقتدار کے معنی ومفہوم کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔شامی حکومت کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کے مستقبل پر کوئی بات نہیں ہوسکتی ہے جبکہ حزبِ اختلاف ان کی رخصتی کا مطالبہ کررہی ہے۔

مذاکرات کا یہ پہلا دور 24 مارچ تک جاری رہے گا۔اس کے بعد سات سے دس روز تک وقفہ ہوگا۔پھر دو ہفتے تک دوسرا دور ہوگا اور پھر دو ہفتے کے بعد تیسرا دور شروع ہوگا۔ڈی مستورا کا کہنا تھا کہ ''اس بات چیت کے بعد ہم ایک واضح نقشہ راہ کے خدوخال وضع کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔میں سمجھوتے کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ واضح نقشہ راہ کی بات کررہا ہوں کیونکہ شام ہم سب سے یہی توقع کرتا ہے''۔