.

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی شہرت کو داغ دار کررہے ہیں: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے لیے صدارتی امیدواروں کی دوڑ سے بیرون ملک امریکا کے تشخص کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

وہ امریکی کانگریس کے ارکان کے ایک گروپ سے گفتگو کررہے تھے۔اس میں دونوں جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔انھوں نے صدارتی مہم کے دوران سطحی اور تقسیم کے بیج بونے والی بازاری زبان کے استعمال پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اس کا تعلق امریکی برانڈ سے بھی ہے۔ہم جو کچھ کرتے ہیں اور جو کہتے ہیں،دنیا اس کو دیکھتی اور اس پر کان دھرتی ہے''۔

انھوں نے آئرش وزیراعظم کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس برانڈ کو تار تار ہوتا ہوا کیوں دیکھنا چاہتے ہیں''۔ براک اوباما نے دوسری مرتبہ صدارتی امیدواروں کی چرب زبانی پر اس طرح کے ردعمل اظہار کیا ہے اور یہ دراصل ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔

بظاہر یہ یقینی نظر آرہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کی نامزدگی کے حصول میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ان کی شعلہ بیانیوں پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔براک اوباما اپنے دور صدارت میں بیرون ملک امریکا کا تشخص بہتر بنانے میں لگے رہے ہیں اور اس میں نمایاں بہتری بھی آئی ہے۔

پیو ریسرچ سنٹر میں عالمی رویّوں کے مطالعے کے ڈائریکٹر رچرڈ وائیک کا کہنا ہے کہ ''ہم نے اوباما کے دور میں دنیا کے امریکا کو دیکھنے کے انداز میں ایک بڑی تبدیلی ملاحظہ کی ہے۔مجموعی طور پر دنیا بھر میں آج امریکا کے بارے میں رویّے جارج ڈبلیو بش کے دور سے کہیں زیادہ مثبت ہیں''۔اب شاید اوباما کی کوششیں خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ایرنسٹ کا کہنا ہے کہ ''دوسرے ممالک میں لوگ امریکی سیاست کو قریب سے دیکھتے ہیں اور ان کی اس کے بارے میں ایک تفہیم ہے۔اس لیے یہاں مباحث کے دوران اختیار کیے گئے لب ولہجے کا ایک اثر ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران تقریروں میں تندوتیز لہجے میں بھاشن دیتے رہتے ہیں۔پہلے انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی ہونی چاہیے۔اس پر انھیں امریکی مسلمانوں کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پھر انھوں نے بیان داغا کہ وہ میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کریں گے اور میکسیکو سے اس کی لاگت ادا کرنے کا مطالبہ کریں گے۔اس پر میکسیکو نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔میکسیکن صدر انرییک پینا نائٹو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس غوغا آرائی کو میسولینی اور ہٹلر کے مشابہ قرار دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپ گرانڈی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد واشنگٹن کے پہلے دورے کے موقع پر تارکین وطن کے مسئلے پر بحث پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

صدر اوباما کے لاطینی امریکا کے لیے سابق مشیر ڈان ریسٹریپو کا کہنا ہے کہ ''صدر ٹرمپ کے یقینی طور پر امریکیوں کے باہمی تعلقات پر انتہائی منفی مضمرات ہوں گے۔اگر اس مرحلے پر ہی ٹرمپ کے خیالات کو مسترد کردیا جاتا ہے تو اس سے امریکا کے جمہوری اداروں کو تقویت ملے گی اور یہ سود مند ہوگی''۔