.

’کینیڈین فوجیوں پر حملہ اللہ کے حکم پرکیا‘

کینیڈا میں فوجیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی پولیس کا کہنا ہے کہ سوموار کی شام ٹورنٹو شہر میں فوج کے بھرتی مرکز میں دو فوجی اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص نے کہا ہے کہ اس نے یہ کارروائی اللہ کے حکم پر کی ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ٹورنٹو میں ایک فوجی مرکز کے قریب ایک شخص نے چاقو کے حملے میں دو کینیڈین فوجی زخمی کر دیے تھے۔ اوٹاوا پولیس چیف مارک سونڈرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے۔ حملہ آور شخص کا دعویٰ ہے کہ فوجیوں پر حملہ اللہ کے حکم پرعمل کرتے ہوئے کیا ہے۔

اوٹاوا میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے شخص کی شناخت ایانلی حسن کے نام سے کی گئی ہے جو کینیڈا کا شہری ہے ، تاہم فی الوقت یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا اس کا کسی گروپ کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ بہ ظاہر یہ کارروائی اس کا ذاتی فعل معلوم ہوتی ہے۔

خیال رہے کہ سوموار کی شام 27 سالہ ایک شخص ٹورنٹو میں فیڈرل انتظامیہ کی عمارت میں داخل ہوا اور وہاں سے نکلنے کے بعد وہ سیدھا فوج کے ایک بھرتی مرکز کے استقبالیے پر جا پہنچا اور چاقو کے حملے میں دو فوجیوں کو زخمی کر دیا۔

پولیس عہدیدار کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے فوجی مرکز میں گھسنے کے بعد با آواز بلند کہا کہ ’’مجھے ایسا کرنے کو اللہ نے حکم دیا ہے۔ میں یہاں کچھ لوگوں کو ہلاک کرنے آیا ہوں‘‘۔

ٹورنٹو میں رہنے والے حسن علی پر شہر کی ایک بڑی عدالت میں مقدمہ چلانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ جلد ہی اسے اقدام قتل کے الزام میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اوٹاوا پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ہم صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس با کا تعین کیا جاسکے کہ آیا اس واقعے کے پس پردہ کسی اور کا ہاتھ بھی ہے یا نہیں۔