.

ایرانی خاتون وکیل نے خامنہ ای کے تضادات کا بھانڈہ پھوڑ ڈالا

لیلیٰ کرامی کا جنیوا میں نوبل انعام یافتگان کے اجلاس سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران میں پچھلے کئی عشروں سے مسلط ولایت فقیہ کے نظام میں خواتین اور دوسرے طبقات پر ڈھائے جانے والے مظالم پر وہاں کے لوگ بہت کم آواز بلند کرپاتے ہیں، مگر حال ہی میں خواتین کی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک ایرانی سماجی کارکن اور وکیل لیلیٰ علی کرامی نے جنیوا میں منعقدہ نوبل انعام یافت گان کے ایک اجلاس کے دوران وہ سچ کہہ ڈالا جسے کہنے سے بہت سے لوگ کتراتے ہیں۔ لیلٰی نے بتایا کہ ان کے ملک میں خواتین کے ساتھ کس طرح کا غیرمہذبانہ اور ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ولایت فقیہ کے نظام اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی #خامنہ_ای کے تضادات کا بھانڈہ بیچ چوراہے کے پھوڑ ڈالا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 39 سالہ #لیلیٰ_کرامی نے اپنی تقریر میں تفصیل کے ساتھ بتایا کہ ایران میں خواتین کے حقوق کو کس بے رحمی کے ساتھ پامال کیاجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کواپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کی عافیت زبانیں بند رکھنے میں ہے، جس نے ذرا سی بھی اختلاف کی جسارت کرڈالی تو اس کا انجام موت یا جیلوں کی تاریک کوٹھڑیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

خواتین سے بدسلوکی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے سیاہ باب کا ذکر کرتے ہوئے لیلیٰ کرامی نے کہا کہ ایران میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی آڑ میں صنف نازک سے امتیازی برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اگرکوئی خاتون ذرا سی بھی آواز بلند کردے تو اسے جیل بھجوانے میں ذرا تاخیر نہیں کی جاتی۔ حراست میں لیے جانے کے بعد خواتین پرظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تاکہ انہیں ملائیت کےخلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں جان سے مار ڈالا جائے۔

دلائی لاما اور توکل کرمان جیسے سرکردہ شخصیات کی موجودگی میں ایرانی خاتون سماجی رہ نما نے خواتین کے حقوق کا کھل کر مقدمہ لڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں زبان کھولنے کی پاداش میں کئی خواتین کو موت کے گھاٹ اتارجا چکا ہے۔ حال ہی میں زنیب ارجائی نامی ایک سماجی کارکن کو خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں پھانسی دی گئی جب کہ بحاری ھدایت نامی ایک سرکردہ سماجی کارکن گذشتہ 9 برس سے تہران کے ایک عقوبت خانے میں پابند سلاسل ہے۔

خیال رہے کہ لیلیٰ علی کرامی بھی ایران کی ایک سرکردہ سماجی رہ نما ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے سنہ 2003ء میں ایرانی خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع کی۔ آج وہ نوبل انعام یافتہ ایرانی خاتون رہ نما شیریں عبادی کے قائم کردہ انسانی حقوق مرکز کی چیئر پرسن بھی ہیں۔ جنیوا اجلاس میں انہوں نے پوری جرات کے ساتھ ایرانی رجیم اور سپریم لیڈر کے تضادات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومتیں ملک میں بنیادی حقوق کی فراہمی کے جیسے دعوے کرتی ہیں عملا وہ ایسی ہرگز نہیں ہیں۔