.

جنیوا مذاکرات کے بارے میں امریکی کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک اہم امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ان کا ملک "شام کے مستقبل کے حوالے سے کوئی خفیہ یا اعلانیہ منصوبہ وضع نہیں کرے گا. اس امر کا فیصلہ شامیوں کے درمیان مذاکرات کے نتائج کریں گے"۔ امریکی عہدے دار نے یہ بات صحافیوں کی ایک مختصر سی تعداد کے ساتھ ملاقات میں کہی جس میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی بھی نمائندگی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کے درمیان قریبی تعاون کے نتیجے میں "انسانی معاملے میں پیش رفت کا آغاز ہوا اگرچہ ابھی تک نتائج پوری طرح اطمینان بخش نہیں ہیں. اس تعاون سے سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے اور تشدد اور دہشت گردی کی سطح کو کم کرنے کا موقع میسر آیا"۔

اس سلسلے میں برطانیہ اور فرانس سے زیادہ روس کے ساتھ تعاون کی وجہ بیان کرتے ہوئے امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ روسی وہ فریق ہیں جو بشار الاسد پر رسوخ اور دباؤ کا استعمال کر سکتا ہے۔ شام سے جزوی انخلاء کے روسی اعلان کے متعلق امریکا کی رائے کے بارے میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے سوال کے جواب میں امریکی عہدے دار (جو شام کے حوالے سے بین الاقوامی اجلاسوں میں بھی شریک ہیں) نے کہا "جو کچھ ہو رہا ہے ان کا ملک اس کا جائزہ لے رہا ہے اور امید ہے کہ یہ ایک مثبت علامت ہو گی. تاہم اعلان کے کچھ روز بعد بہت سے لوگ حیران ہو گئے. ہم رد عمل کے اظہار میں متنبہ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں"۔

امریکا کے نمایاں سفارت کار سے جب شام میں فائربندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں امریکا اور روس کی جانب سے کوئی رپورٹ شائع نہ کرنے کی وجہ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ "خلاف ورزیوں پر توجہ بہت محدود پیمانے پر ہے اور یہ نمایاں نتائج کے حصول کے لیے کوئی فعال ذریعہ نہیں"۔ انہوں نے باور کرایا کہ روس ابھی تک ان تمام اقدامات کی پاسداری کر رہا ہے جن کا اس نے امریکیوں کے سے وعدہ کیا تھا۔

اسی سے مربوط سیاق میں اعلی سطح کے سفارت کار نے واضح کیا کہ امریکا کے جنیوا بیان 1 کی پاسداری سے پیچھے ہٹ جانے سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ شام کے حوالے سے بین الاقوامی سپورٹ گروپ کی جانب سے جاری ہر بیان اس بیان پر عمل درامد کی ضرورت پر زور دیتا ہے. اور اس میں عبوری حکمراں کمیٹی کی تشکیل شامل ہے جس کو وہ تمام اختیارات منتقل کیے جائیں گے جو اس وقت بشار الاسد کے پاس ہیں۔

امریکی عہدے دار سے شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشار الجعفری کے اس بیان کے متعلق رائے بھی پوچھی گئی جس میں الجعفری نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے. جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اہم چیز وہ ہے "جو شامی حکومت کا وفد مذاکرات کے ہال میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفن ڈی مستورا کے ساتھ زیربحث لاتا ہے نہ کہ جو یہ وفد اعلان کرتا ہے"۔

امریکی عہدے دار نے شامی بحران کو " مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں پیچیدہ ترین تنازع" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نئے دور کا آغاز "مثبت" ہے اگرچہ بعض دشوار امور باقی ہیں جن میں قیدیوں کا معاملہ بھی. یہ مشکل موضوع ہے لیکن اہم ہے اور اس میں وقت لگے گا"۔

آخر میں امریکی اعلیٰ عہدے دار نے واضح کیا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ دو وفد ہیں جو ڈی مستورا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایک حکومتی وفد اور ایک سپریم کمیٹی (اپوزیشن) کا وفد. "اقوام متحدہ کے ایلچی کو چاہیے کہ جس بھی چاہیں مشاورت کریں مگر مذاکرات ان مذکورہ دو وفدوں کے ساتھ ہی ہوں گے"۔