.

سعودی عرب :حزب اللہ حامیوں کے اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ

امریکی عدالت نے لبنانی ملیشیا کو بھی نائن الیون حملوں میں ملوّث قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے مالیاتی تحقیقاتی یونٹ نے لبنان کے شیعہ دہشت گرد گروپ حزب اللہ کے ساتھ تعلق یا اس کی حمایت یا مالی معاونت کرنے والے کسی بھی شہری یا تارکِ وطن کے بنک اکاؤنٹ اور اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد کے ان کے خلاف تحقیقات کی تکمیل تک تین ماہ یا زیادہ عرصے کے لیے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔اس اقدام کے تحت ان کے بنک کھاتے منجمد ہوں اور ان کی جائیدادیں بھی ضبط کر لی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق حزب اللہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے یا ان کے ساتھ ہمدردی جتلانے والوں کو ان کی جیل کی مدت پوری ہونے کے بعد مملکت سے بے دخل کردیا جائے گا اور ان کے دوبارہ سعودی عرب میں داخلے پر پابندی عاید کردی جائے گی۔

ادارہ تحقیقات ( بیورو آف انوسٹی گیشن) اور پبلک پراسیکیوشن مشتبہ افراد سے پہلے مکمل تفتیش کرے گا اور پھر ان کے کیس عدالت میں بھیجے گا۔عدالت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان مدعاعلیہان کے موقف کو سنے گی اور پھر فیصلہ سنائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ نے دو سال قبل دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عاید کی تھی تو اسی وقت ان کے ہمدردوں اور وابستگان کے اثاثے بھی منجمد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

سعودی عرب نے حال ہی میں حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا نام بلیک لسٹ کردیا ہے۔اس کو شام میں جاری لڑائی میں کردار ،عرب ممالک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سعودی عرب سمیت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے خلاف مذموم میڈیا مہم برپا کرنے کی بنا پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔

جی سی سی کے دو رکن ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں متعدد لبنانیوں کو حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں بے دخل کر دیا ہے۔جی سی سی اور عرب لیگ نے بھی اسی ماہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

حزب اللہ 9/11 حملوں میں ملوّث

درایں اثناء امریکا کی ایک عدالت نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو بھی نائن الیون حملوں میں قصور وار قرار دیا ہے۔اس عدالت نے گذشتہ ہفتے 11 ستمبر 2001ء کو امریکی شہروں نیویارک اور واشنگٹن پر طیارہ حملوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔اس عدالت نے ایران کو ملوّث کو ان میں ملوّث قرار دیتے ہوئے 11 ارب ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے ایک ہفتہ قبل اپنے فیصلے میں الزام عاید کیا تھا کہ ایران نے نائن الیون حملوں کے لیے القاعدہ کے دہشت گردوں کی مدد کی تھی۔ انھوں نے طیارے اغواء کرنے کے بعد دہشت گردی کی تاریخ کی بدترین کارروائی انجام دی تھی۔

امریکی عدالت نے دہشت گردوں کی معاونت کے الزام میں قصور وار قرار دے کر ایران پر گیارہ ارب ڈالرز جرمانہ عاید کیا تھا۔ امریکی عدالت کا کہنا تھا کہ جرمانے کی کچھ رقم نائن الیون حملوں میں متاثرہ خاندانوں کو ادا کی جائے گی اور بقیہ رقم امریکی حکومت کو بہ طور ہرجانہ ادا کی جائے گی۔

امریکی عدالت کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون حملوں میں ملوّث عناصرنے ایران کا بھی دورہ کیا حالانکہ ان کے پاس ایران کے پاسپورٹس نہیں تھے مگر لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے دہشت گردوں کو ایران میں داخل ہونے کے لیے مالی مدد مہیا کی تھی اور شدت پسندوں کی رہ نمائی بھی کی تھی۔ عدالتی دستاویزات میں حزب اللہ کو القاعدہ کی معاونت کار بتایا گیا ہے۔تاہم اس پر کسی قسم کا جرمانہ عاید نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نائن الیون حملوں کے نتیجے میں بیوہ ہونےوالی ایک خاتون نے سنہ 2011ء میں امریکا کی ایک عدالت میں القاعدہ کے بانی مقتول اسامہ بن لادن، افغان طالبان کے رہنما ملا محمد عمر، لبنانی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ، ایران کے مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای، سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی، ایرانی انٹیلی جنس چیف، پٹرولیم کمپنیوں، ایرانی وزارت تجارت اور وزارت دفاع کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا تھا اور اس میں ان سب کو نائن الیون حملوں کا قصور وار قرار دیا گیا تھا۔