.

کینیڈا دو سال کے لیے سلامتی کونسل کی رُکنیت کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ ان کا ملک دو سال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کا خواہاں ہے۔ان کے بہ قول یہ دوسالہ مدت 2021ء میں آغاز ہوگی۔

سلامتی کونسل کی رکنیت کے حصول کا انھوں نے جواز یہ پیش کیا ہے کہ کینیڈا نے حال ہی میں ہزاروں شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے اور وہ دنیا میں امن سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہتا ہے۔

جسٹن ٹروڈو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرزمیں غیرملکی سفیروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''کینیڈا انہی ارفع اصولوں پر عمل پیرا ہے جو اقوام متحدہ کے پسندیدہ ہیں اور یہ انسانی حقوق ، صنفی امتیاز اور نسلی تنوع ہیں''۔

کینیڈا اس سے پہلے آخری مرتبہ سنہ 2000ء میں سلامتی کونسل کا رکن تھا۔اب اس کا سلامتی کونسل کی دو سال کی غیرمستقل نشست کے لیے آئیرلینڈ اور ناروے سے مقابلہ ہوگا۔جسٹن ٹروڈو نے کہا:''اب وقت آگیا ہے کہ کینیڈا ایک مرتبہ پھر آگے بڑھے''۔

چوالیس سالہ جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو سلامتی کونسل میں کردار ادا کرنا ہے۔انھوں نے جنگ زدہ شام سے تعلق رکھنے والے شامیوں کی آبادکاری کے لیے کینیڈا کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

کینیڈا نے اب تک پچیس ہزار شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔وزیراعظم ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ''نئے مکین کینیڈا کو مضبوط بنائیں گے،لوگ بہتر زندگیاں گزارنے کے لیے کینیڈا آتے ہیں اور انھوں نے اس کی بہتری میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس سے آیندہ پانچ سال اور دس سال میں معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی''۔

کینیڈا 1940ء کے عشرے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے چھے مرتبہ دوسال کی مدت کے لیے غیر مستقل رکن رہ چکا ہے۔2010ء میں وہ پرتگال کے مقابلے میں ہار گیا تھا اور کینیڈا کی قدامت پسند حکومت کو اس شکست کا ذمے دار قرار دیا گیا تھا۔

سلامتی کونسل کے کل رکن ممالک کی تعداد پندرہ ہے۔پانچ ممالک امریکا ،برطانیہ ،فرانس ،روس اور چین اس کے مستقل رکن ہیں اور انھیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔دس ارکان غیر مستقل ہوتے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اراکین 193 ممالک دو، دو سال کی مدت کے لیے ان کا انتخاب کرتے ہیں۔کینیڈا جس نشست کے لیے امیدوار ہے،اس پر اب 2020ء میں انتخاب کیا جائے گا۔