.

ضرورت پڑنے پر افواج چند گھنٹوں میں شام آسکتی ہیں : روسی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادیمر پوتین کا کہنا ہے کہ ان کا ملک داعش اور النصرہ فرنٹ کے خلاف لڑائی میں شامی حکومت کی سپورٹ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شام میں امن کے عمل کے واسطے موافق حالات تیار کردیے ہیں۔

پوتین نے باور کرایا کہ روس چند گھنٹوں کے اندر شام میں اپنا عسکری وجود بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے.. اور جزوی انخلاء بشار الاسد کے ساتھ اتفاق رائے سے عمل میں آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں جنگ روسی افواج کے لیے بہترین تربیت تھی۔

شام سے روسی افواج کا انخلاء 2 سے 3 روز کے اندر مکمل ہوگا

روسی فضائیہ کے سربراہ ویکٹر بونداریو نے ایک روسی روزنامے Komsomolskaya Pravda کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ شام میں روسی افواج کے بڑے حصے کو دو سے تین روز کے اندر واپس بلا لیا جائے گا۔ فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ مذکورہ امر کا تعلق خاص طور پر لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے انخلاء سے ہے.. تاہم انہوں نے واپس آنے والے اور شام میں باقی رہ جانے والے طیاروں کی تعداد بتانے سے انکار کردیا۔

یاد رہے کہ بشار الاسد کی فوج کو سپورٹ کرنے کے لیے روسی جنگی طیاروں نے 30 ستمبر 2015 سے شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

اس سے قبل منگل کے روز وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری آئندہ ہفتے روس روانہ ہوں گے جہاں وہ صدر پوتین اور وزیر کارجہ سرگئی لاؤروف سے ملاقات کریں گے۔

واضح رہے کہ شام کے صوبے اللاذقیہ میں "حميميم" کے فضائی اڈے پر موجود روسی طیاروں کی درست تعداد خفیہ رکھی گئی۔ تاہم سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر اور ماضی میں روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ روس نے اس اڈے پر تقریبا 36 طیارے رکھے ہوئے تھے۔

ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے کلپس کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کم از کم 15 طیارے گزشتہ دو روز میں واپس جاچکے ہیں۔