.

’علاج کرایا ہے تو اب پیسے بھی دو‘:ایران کا دوغلا پن بے نقاب

تہران نے ’وفادار‘ حوثیوں سےعلاج کی مد میں 14 ملین ڈالرمانگ لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ایک جانب یمن میں شیعہ مسلک کے حوثیوں کو حکومت کےخلاف استعمال کرتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے اور دوسری طرف یمن میں لڑائی کے دوران زخمی ہونے والے انہی ایرانی ’وفاداروں‘ سے ان کے علاج کی بھاری فیسیں بھی وصول کی جا رہی ہیں۔

عرب ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے زخمی ہونے کے بعد تہران لائے گئے حوثی باغیوں سے کہا ہے کہ وہ علاج کی مد میں 14 ملین ڈالر کی رقم ادا کریں۔ ایران کی جانب سے حوثی باغیوں سے علاج کے اخراجات وصول کرنا حیران کن ہے، کیونکہ یمن میں حکومت کے خلاف بغاوت پراٹھانے اوران کی مالی اور معنوی مدد کرنے میں ایران پیش پیش رہا ہے۔ مگر یہاں ایران کا دوغلا پن ثابت ہورہا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب یمنی عوام کی مفت میں ہرممکن مدد کی کوشش کررہا ہے۔

جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کا بلا تفریق سعودی عرب کے اسپتالوں میں علاج کیا گیا۔ گذشتہ ہفتے سعودی عرب نے حوثیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے صعدہ گورنری میں سعودی عرب نے 220 ٹن غذائی اور طبی سامان ارسال کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب ایران کی طرح طوطا چشم نہیں ہے۔ ایران نے اپنے لیے پراکسی وار لڑنے لے زخمی حوثیوں سے بھی ان کے علاج کے پیسے مانگ کر اپنی بدنیتی ظاہر کر دی ہے۔