.

یورپی لیڈر ترکی کے ساتھ تارکینِ وطن سے متعلق ڈیل پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیڈروں نے تارکین وطن اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ سمجھوتے سے اتفاق کیا ہے اور یہ مجوزہ سمجھوتا آج جمعہ کو ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کو پیش کیا جارہا ہے۔

تنظیم کے اٹھائیس رکن ممالک کے لیڈروں نے جمعرات کو برسلز میں اپنے اجلاس میں سارا دن اس تجویز کے جملہ پہلوؤں پر غور کیا ہے اور اس کو حتمی شکل دی ہے۔اس کے تحت ترکی یونان جانے والے تمام غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لے گا تاکہ یورپ کو دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین اور تارکین وطن کے اس بڑے اور منفرد بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

لکسمبرگ کے وزیراعظم ژاوئیر بیٹل نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ یورپی یونین کے مؤقف کے بارے میں سمجھوتا طے پا گیا ہے اور اس کو یورپی یونین کی کونسل کے اجلاس سے قبل ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کو پیش کیا جائے گا۔

جرمن چانسلر اینجیلا میرکل کا کہنا تھا کہ ''انسانی اسمگلروں کے کاروبار کو روکنے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔یہ انسانی اسمگلر 2015ء کے بعد سے شام اور دنیا کے دوسرے ممالک سے بارہ لاکھ سے زیادہ افراد کو یورپی ممالک میں لے آئے ہیں''۔

تاہم انھوں نے یونانی جزیروں میں سیاسی پناہ کی تلاش میں آنے والے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو ترکی واپس بھیجنے کے لیے واضح منصوبے اور پیشگی شرائط کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

اس ڈیل کے تحت یورپی یونین کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔وہ ترکی کو رکنیت دینے کا عمل تیز کرے گی۔اربوں یورو کی اضافی امداد دے گی اور ترک شہریوں کو تنظیم کے رکن ممالک میں ویزا فری کہیں بھی جانے کی اجازت ہوگی۔

بعض ناقدین نے ''ایک کے بدلے میں ایک '' ڈیل کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عالمی قانون کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے۔انھوں نے اس ضمن میں انقرہ کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا حوالہ دیا ہے۔

ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے انقرہ سے روانہ ہوتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ''مجوزہ ڈیل واضح اور دیانت دارانہ ہے لیکن ترکی کبھی تارکین وطن کے لیے ایک کھلی جیل نہیں بنے گا''۔

وہ آج برسلز میں یورپی کونسل کے صدر ڈونالڈ تسک، یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر اور ڈچ وزیراعظم مارک روٹ سے ملنے والے ہیں۔اس کے بعد یورپی یونین کے لیڈروں کا اجلاس ہوگا۔اس میں وہ مجوزہ سمجھوتے پر مشاورت کریں گے اور اس کو حتمی شکل دیں گے۔

اگر اس ڈیل پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے یونان بھی سکھ کا سانس لے سکے گا جہاں اس وقت بلقانی ریاستوں کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کے بعد ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن پھنس کر رہ گئے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران آسٹریا نے یورپ کے جنوب مشرقی ''بلقان روٹ'' کو غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لیے مستقل طور پر بند کردیا ہے۔اس سے پہلے مقدونیہ ،سلوینیا ،کروشیا اور سربیا آسٹریا اور یونان کے ساتھ اپنی سرحدوں کو غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے بند کرچکے ہیں۔ان ممالک نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے نئی سخت پابندیاں بھی عاید کردی ہیں۔

یورپ کا رخ کرنے والوں میں کثیر تعداد مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے مہاجرین کی ہے جو ترکی سے بحر متوسط کے راستے پُرخطر سفر کرکے یونان اور پھر یورپ کی جانب جارہے ہیں۔بلقانی روٹ کی بندش سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن مقدونیہ کی سرحد کے ساتھ یونان کے علاقے اور ایک ہزار کے لگ بھگ سربیا کی سرحد کے ساتھ مقدونیہ کے علاقے میں قائم ایک مہاجر کیمپ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

آسٹریا نے فروری میں تارکین وطن کی جوق درجوق آمد روکنے کے لیے سرحدوں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔گذشتہ سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پندرہ لاکھ تارکین وطن اور مہاجرین یورپ پہنچے تھے جس کے بعد اس براعظم کو ان کی آبادکاری اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک بحران کا سامنا ہے۔