.

انقرہ دھماکوں کی مرکزی ملزمہ کی مزید تفصیلات جاری

چوبیس سالہ سھر کاجلا ترکی میں دہشت گرد سیل کی رکن تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں گذشتہ اتوارکے روز دہشت گردی کے ہولناک واقعے میں ملوث قرار دی گئی ایک کرد دوشیزہ کے بارےمیں ذرائع ابلاغ میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ برطانوی اخبار’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق حملہ آور لڑکی کا نام سھر کاجلا دمیر ہے جس کی عمر چوبیس سال تھی۔ وہ ترکی میں کردوں کے قائم کردہ ایک پانچ رکنی خواتین دہشت گرد سیل کی رکن تھی مگر سنہ 2013ء میں وہ شام میں عسکری تربیت کے لیے ترکی سے چلی گئی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ اتوار کو انقرہ میں ہونے والے ایک کار خود کش دھماکے میں کم سے کم 37 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سھر کاجلا ترکی میں خواتین کے جس پانچ رکنی دہشت گرد گروپ کی رکن تھی اس میں تین سگی بہنیں بھی شامل ہیں۔ ان سب کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا مقدمہ چلایا گیا۔ مگر رہائی کے بعد دمیر سنہ 2013ء میں بیرون ملک فرار ہوگئی تھی۔ پیچھے بچ جانے والی چار دوسری خواتین کے خلاف ترک عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں فیصلہ سنایا تھا۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ فرار کے بعد کاجلا دمیر شام کے کردستان کے علاقے میں سرگرم کرد جنگجوؤں کے گروپ میں شامل ہوئی اور کردستان لیبر پارٹی کے ایک عسکری کیمپ سے اس نے جنگی ٹریننگ لی تھی۔

انقرہ حکومت کے مطابق دہشت گرد لڑکی فرار کے بعد شمالی عراق کے پہاڑی علاقے میں واقع کردستان ورکرز پارٹی کے ایک مرکز میں پہنچی جہاں اسے عسکری تربیت مہیا کی گئی۔ بعد ازاں وہ عراق سے شام منتقل ہوئی اور ’’کردستان فری شاہین‘‘ نامی ایک شدت پسند گروپ کاحصہ بن گئی۔

اس کا خاندان استنبول سے 113 کلو میٹر دور ساحلی شہر مرمرہ جلیسی میں آج بھی موجود ہے مگر اس نے اپنی شدت پسند بیٹی سے اعلان برات کررکھا ہے۔ حتیٰ کہ دہشت گرد لڑکی کے والد نے اپنی بیٹی کو دفن کرنے سے بھی انکار کردیا۔ والد جمیل کا کہنا تھا کہ وہ ایک دہشت گرد کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ اس کی اپنی اولاد ہے مگر جس طرح اس نے موت کو گلے لگایا ہے وہ کسی طورپر ان کے عقاید کے مطابق درست نہیں ہے۔

کاجلا دمیر کے بڑے بھائی نے بھی اپنی بہن کے خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں مارے جانے والے افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ بھائی نے بھی کردستان ورکرز پارٹی کے نظریات کی ڈٹ کر مخالفت کی اور الزام عاید کیا کہ اس کی ہمیشرہ کو دہشت گردی کی طرف لے جانے میں کردستان لیبر پارٹی قصور وار ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ادمیر نے شام میں ہی ترکی میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جس کے بعد وہ گذشتہ ہفتے ایک جعلی پاسپورٹ پر کردستان کے علاقے سے ترکی میں داخل ہوئی۔ ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق خود کش حملے میں اس کے ساتھ ایک 26 سالہ شخص جس کی شناخت اوزغور اونسال کے نام سے کی گئی ہے بھی ملوث ہے۔ ان دونوں نے مل کرخود کش حملہ کیا تھا۔