.

خمینی فتوی اور یمن میں زکوٰۃ و مساجد کے مال کی لوٹ مار

حوثی باغی جنگی مقاصد کے لیے سنی مساجد کا مال لوٹنے میں ملوث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں گذشتہ ایک سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران ایران نواز حوثی جہاں عام شہریوں اور قومی املاک کی لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں وہیں وہ اپنے جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے زکوٰۃ اور اہل سنت مسلک کی مساجد کے مال پر بھی دھڑلے کے ساتھ ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی اس لوٹ مار کے پیچھے ایران کے ولایت فقیہ نمائندہ انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے وہ فتوے بنیاد بنائے جا رہے ہیں جن میں موصوف نے حالت جنگ میں اہل سنت کی مساجد اور زکوٰۃ واوقاف کے مال کو لوٹنا اور اسے استعمال کرنا جائز قرار دے رکھا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں سنہ 2011ء میں مذہبی مرکز سمجھے جانے والے قُم شہر کے حوزہ العلمیہ سے بھی ایسے متعدد فتوے صادر کیے گئے تھے جن میں جنگ میں مال غنیمت کے طور پر اہل سنت کا مال واسباب لوٹنا جائز قرار دیا گیا تھا۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ ایک برس سے ایران نواز حوثی باغیوں نے بنکوں کی لوٹ مار سے عام شہریوں کی جیبیں خالی کرنے تک قومی دولت لوٹنے کا کوئی حربہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس دوران یہ بھی پتا چلا ہے کہ ملک بھر میں پھیلی اہل سنت والجماعت مسلک کی مساجد کا مال بھی لوٹ کر حوثی لیڈروں کی جیبیں بھری گئیں۔ حتیٰ کہ غرباء و مساکین کے لیے جمع کیے گئے زکوٰۃ کے مال کو بھی لوٹ کر اسے اسلحہ خریدا گیا اور باقی رقم حوثیوں میں بانٹی گئی۔ یہ مکروہ حربہ ان شہروں میں آج بھی اپنے عروج پر ہے جہاں حوثی انتظامی طور پر مسلط ہیں۔

حوثیوں کی یمن میں جاری لوٹ مار کے پس پردہ آیت اللہ خمینی کے وہ فتاویٰ ہیں جو اہل سنت والجماعت کے اموال کی لوٹ مار کی سند جواز مہیا کرتے ہیں۔ خمینی کا ایک فتویٰ ان کی کتاب ’’تحریر وسیلہ1‘‘ کے صفحہ 352 پر بھی موجود ہے جس میں انہوں نے دوران جنگ حاصل ہونے والے اموال یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے حاصل ہونے والی دولت کا 'خمس' بہ طور مال غنیمت کے نکالنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

انہی فتاویٰ جو جواز بناتے ہوئے حوثیوں نے گذشتہ برس اپریل میں یمن کے سینٹرل بنک پر دھاوا بول کر زکواۃ، عشر اور مساجد کے 107 ملین ڈالر مال لوٹ لیا تھا۔