.

روس نے شامی میدان جنگ میں اپنا اسلحہ آزمایا: امریکی اخبار

روسی لڑاکا طیارے: فائل فوٹو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے شامی لڑائی کو اپنی فوجی صلاحیت آزمانے اور گولا بارود ٹیسٹ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق اس ضمن میں لڑاکا طیاروں، سمندر سے کروز کیلیبر میزائل داغنے اور S400 میزائل بیٹریوں کا استعمال خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

روس کی شام میں چھ مہینوں پر محیط فوجی مداخلت کے دوران ماسکو نے شامی تنازع کو اپنے بعض اسلحہ اور گولا بارود ٹیسٹ کرنے کے لئے استعمال کیا۔ نیز اس لڑائی کے دوران روس نے لاجیسٹک خدمات، اپنی ایلیٹ یونٹوں کی کارکردگی اور اس میں پائی جانے والی کمزوریوں کا پتا لگایا۔

اخبار نے ایک روسی فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ولادیمیر پیوتن نے شام میں فوجی مداخلت کے ذریعے اپنی جنگی صلاحیت اور ان کارروائیوں کو اپنے مقاصد کے حصول کی خاطر استعمال کرنے کا مظاہرہ کیا۔

'واشنگٹن پوسٹ' کی رپورٹ میں فوجی ماہرین کا ایک بیان نقل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روس نے شام میں فوجی مداخلت کے دوران اپنی سریع الحرکت یونٹوں کی صلاحیت کو آزمایا۔ نیز شامی معرکے میں سخوئی طرز کے جدید لڑاکا طیارے بھی استعمال کئے گئے جس کے ذریعے روسی ہوابازوں کو مطلوبہ جنگی مشقوں کے عملی مظاہرے کا موقع ملا۔

شامی جنگ میں کود کر روس نے اپنے S400 طرز کے جدید ترین ایئر ڈیفنس کو بھی شام میں آزمایا۔ اپنی فوج کے بڑے حصے کے انخلاء کے بعد بھی روس نے اس سسٹم کو شام میں ہی نصب رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس نے بحیرہ اسود میں اپنے بحری جہازوں سے کیلیبر طرز کے کروز میزائل شامی اہداف پر داغنے کی کارروائی کو یورپ کے دور دراز علاقوں میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے استعارے کے طور پر استعمال کیا۔

روس نے شامی جنگ میں اپنی شرکت کے ذریعے 'سپلائی چین' میں بہتری کے طریقے آزمائے۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے شام میں استعمال کئے جانے والے گائیڈڈ اسلحہ میں پائی جانے والی کمزوریوں کی نشاندہی کی کیونکہ انہیں داغنے والے سسٹم میں خامیوں کی وجہ سے شام میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جس سے متاثرہ علاقوں کے لوگ بڑے پیمانے پر انخلاء پر مجبور ہوئے۔