.

سعودی عرب: سوشل میڈیا پر سب وشتم، عدالتی دائرہ اختیار میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب میں عدلیہ کی سپریم کونسل کے سربراہ الشیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور ہتک سے متعلق معاملات اور مقدمات کا تنازع ختم کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ یہ عام عدلیہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے عدالتوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ اس سلسلے میں پیش کیے جانے والے مقدمات کو دیکھا جائے۔

سعودی روزنامے "المدینہ" کے مطابق ماضی میں بعض عدالتوں اور وزارت ثقافت و ذرائع ابلاغ کے زیر انتظام "الیکٹرونک آڈیو ویژؤل خلاف ورزیوں سے متعلق کمیٹی" کے درمیان اس سلسلے میں اختیارات کے حوالے سے کئی مرتبہ تنازعات سامنے آئے۔

الصمعانی نے ریاض میں کورٹ آف اپیل اور پینل کورٹ کے سربراہوں کو بھیجے گئے ہدایت نامے میں باور کرایا کہ "ماضی میں دائرہ اختیارات کے تنازعوں کے جائزے، کرمنل پروسیجر لاء، پریس اینڈ پبلی کیشن کے نظام، الیکٹرونک پبلیشنگ سے متعلق سرگرمیوں کے اصول و ضوابط، انفارمیشن ٹکنالوجی سے متعلق جرائم کے نظام انسداد کو اچھی طرح جاننے اور مملکت میں سیشن عدالتوں اور کورٹ آف اپیل کے عمومی طریقہ کار کے سروے کے بعد.. عدلیہ کی سپریم کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر سب و شتم اور ہتک کے معاملات کو دیکھنے کے اختیارات عام عدلیہ کے سپرد کیے جائیں"۔

یاد رہے کہ بعض عدالتیں سوشل میڈیا پر سب وشتم اور لعن طعن کے معاملات کو وزارت ثقافت و ذرائع ابلاغ کے زیرانتظام الیکٹرونک آڈیو ویژؤل خلاف ورزیوں سے متعلق ابتدائی کمیٹی کے دائرہ اختیار میں خیال کرتی تھیں۔ اس کے نتیجے میں ایک بڑی غلط فہمی جنم لے چکی تھی.. تاہم عدلیہ کی سپریم کونسل کے سربراہ نے اس مسئلے کے مستقل حل کا اعلان کرتے ہوئے عدالتوں کو مذکورہ مقدمات کو دیکھنے کا پابند بنایا ہے۔