.

استنبول میں خودکش حملہ کرنے والا داعش کا ترک رکن نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں ہفتے کے روز خودکش دھماکا کرنے والے بمبار کی شناخت ہوگئی ہے اور وہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا ترک رکن تھا۔اس بم دھماکے میں تین اسرائیلی اور ایک ایرانی شہری ہلاک اور چھتیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ترکی کے وزیر داخلہ افکان علا نے اتوار کو نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ خودکش بمبار جنوبی صوبے غازیان تیپ میں 1992ء میں پیدا ہوا تھا۔اس کا نام محمد اوزترک تھا اور وہ داعش کا رکن تھا۔

اسرائیل نے بم دھماکے میں اپنے تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ان میں دو امریکا کے بھی شہری تھے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اس بات کے تعیّن کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ان کے شہریوں کو جان بوجھ کر تو حملے میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔چھتیس زخمیوں میں سے گیارہ اسرائیلی شہری ہیں۔

ہفتے کے روز استنبول میں مشہور کاروباری مرکز شاہراہ استقلال پر خودکش بم حملہ بالکل اسی انداز میں کیا گیا تھا جس طرح جنوری میں جرمنی سیاحوں پر کیا گیا تھا۔اس حملے کا بھی داعش پر الزام عاید کیا گیا تھا۔

ترکی میں اس سال اب تک چار خودکش بم دھماکوں میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔دارالحکومت انقرہ میں دو خودکش بم دھماکوں میں چھیاسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ترک کے جنوب مشرقی علاقے میں مسلح تحریک چلانے والے جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) نے ان دونوں حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ترک حکام نے استنبول میں خودکش بم حملے کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔خودکش بمبار اوزترک کے بھائی اور باپ سے بھی پوچھ تاچھ کی جارہی ہے اور اس کی شناخت ان کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اوزترک کے خاندان نے اس کے 2013ء میں لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی۔اس وقت وہ وہ اپنے آبائی علاقے سے استنبول گیا تھا۔

استنبول میں خودکش بم دھماکے کے بعد ملک بھر میں پولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔کرد اسی اختتام ہفتہ پر اپنا میلہ بہار منا رہے ہیں اور اس موقع پر کرد جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا خدشہ ہے۔امریکا اور بعض یورپی ممالک کے سفارت خانوں نے ترکی میں مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ نورز کی تقریبات کے موقع پر ہوشیار رہیں۔