.

برطانیہ سے انسداد دہشت گردی قانون میں نرمی کا مطالبہ

برطانوی بنکوں پر جنگ سے متاثرہ شامیوں تک امداد کی ترسیل میں حائل ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں قائم بڑے عالمی خیراتی اداروں نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ سے متاثرہ شامیوں تک ضروری انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے انسداد دہشت گردی قوانین کے منفی اثرات کو کم سے کم کرے۔

برطانیہ میں قائم بارہ امدادی تنظیموں نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام ایک خط لکھا ہے اور اس میں اس امر کی نشان دہی کی ہے کہ ''مبہم قانون سازی'' کی وجہ سے شام تک امدادی رقوم بھیجنے کا عمل یا تو سست روی کا شکار ہے یا پھر ان رقوم کو سرے سے وہاں تک پہنچنے سے روکا جارہا ہے کیونکہ بعض بنک رقوم کی ترسیل میں متردد ہیں''۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ریگولیٹرز کو فعال انداز میں منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے وضع کردہ قواعد وضوابط کی وضاحت کرنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ بنک مناسب انداز میں کام کریں''۔

گذشتہ ماہ تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مغرب کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت امدادی ایجنسیوں کو شام میں انتہا پسند گروپوں کے زیرقبضہ علاقوں میں کمیونٹیوں تک پہنچنے سے روکا جارہا ہے۔

شام میں کام کرنے والی اکیس امدادی تنظیموں نے ایک سروے میں بتایا تھا کہ بنک کاری کے قواعد وضوابط سے ان کے عملے کے لیے ضروری امدادی سامان پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔اس وجہ سے لوگ انتہا پسندوں کا آسان ہدف ہوسکتے ہیں اور وہ انھیں سخت گیری کی جانب مائل کرسکتے ہیں۔

شام میں گذشتہ تین ہفتوں سے جنگ بندی جاری ہے۔اس کا ایک مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان بہم پہنچانا تھا لیکن شامی حکومت ابھی تک امدادی قافلوں کو ان چھے علاقوں تک رسائی دینے کی اجازت نہیں دے رہی ہے جن کا اس کی فورسز نے محاصرہ کررکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت عالمی خوراک پروگرام نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی فورسز کے محاصرے کا شکار قصبے داریا اور داعش کے زیر قبضہ شہر دیرالزور میں لوگ گھاس کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ وہاں محصور لوگوں تک امدادی خوراک پہنچانے کی اجازت نہیں دے جارہی ہے اور لوگ نانِ جویں کو ترس رہے ہیں۔

خیراتی ادارے یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکا اور یورپ میں دہشت گردی کے حملوں کے پیش نظر داعش ایسے گروپوں کے مالی ذرائع کا سراغ لگانے اور انھیں رقوم کی ترسیل کی روک تھام کی ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس بات کی ضرورت پر زوردیا ہے کہ بنکوں کو قانونی خیراتی اداروں کو کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے اور اس میں رکاوٹیں نہیں ڈالنی چاہییں۔

اس خط پر اسلامک ریلیف ،کرسچیئن ایڈ ،شامی ریلیف ،رسپانڈنگ ٹو کنفلیکٹ ،مرسی کارپوریشن یو کے، کئیر انٹرنیشنل یوکے، سی اے ایف او ڈی ،سوا فاؤنڈیشن یو کے ،مسلم چیریٹیز فورم ،مسلم ایڈ ،ہینڈ ان ہینڈ برائے شام اور چار سو سے زیادہ خیراتی اداروں کے کنسورشیم بانڈ کے سربراہوں نے دستخط کیے ہیں۔

اس میں برطانوی حکومت کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ بنکوں ،امدادی ایجنسیوں اور برٹش بنکرز ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس بلائے تاکہ متاثرین تک امداد پہنچانے کی کوئی راہ نکالی جاسکے۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہمارے سیاست دانوں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے کہ زندگی بچانے کے لیے فنڈز حاجت مندوں تک پہنچ سکیں''۔