.

اسرائیل دو ریاستی حل کے لیے عزم کا مظاہرہ کرے: جو بائیڈن

یہودی آبادکاری کی پالیسی سے اسرائیل کے امن کے لیے عزم پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے اسرائیلی حکومت پر زورد دیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ تنازعے کے دوریاستی حل کے لیے عزم کا مظاہرہ کرے۔انھوں نے کہا کہ یہودی بستیوں کی توسیع سے امن کے لیے امکانات کم زور پڑ رہے ہیں۔

وہ واشنگٹن میں اسرائیل نواز لابی کے ایک سرکردہ گروپ امریکی اسرائیل عوامی امور کمیٹی کے اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل نے یہودی آباد کاری کو توسیع دینے ،یہودی آباد کاروں کی بستیوں کو قانونی قرار دینے اور زمین ہتھیانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے،اس سے میری نظر میں دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہورہے ہیں''۔

جو بائیڈن نے واضح کیا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے اس موقف سے متفق نہیں ہیں کہ یہودی بستیوں کو توسیع دینے سے تنازعے کے حل کے لیے کسی کوشش میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔

انھوں نے بنیامین نیتن یاہو کے حوالے سے کہا کہ'' بی بی یہ خیال کرتے ہیں کہ یہودی آبادکاری کی راہ نکالی جاسکتی ہے۔وہ اس میں یقین بھی رکھتے ہیں لیکن میں نہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''مشرقِ وسطیٰ کا خطہ بظاہر تنازعے کے یک ریاستی حل کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن یہ بہت ہی خطرناک ہوگا۔اس وقت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات کے لیے کوئی عزم نظر نہیں آتا ہے اور یہ ایک مایوس کن امر ہے''۔

واضح رہے کہ اسرائیل یہ کہتا چلا آرہا ہے کہ وہ مستقبل میں فلسطینیوں کے ساتھ کسی امن سمجھوتے کی صورت میں غربِ اردن میں یہودی آباد کاروں کے بڑے بلاکوں کو اپنے پاس ہی رکھے گا لیکن فلسطینی اس کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی مجوزہ ریاست کے قیام میں رکاوٹیں حائل ہوں گی۔وہ غربِ اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقے پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دیگر عوامل کے علاوہ ان یہودی بستیوں کی وجہ سے امریکا کی ثالثی میں سنہ 2014ء میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات منقطع ہوئے تھے۔ گذشتہ پانچ ماہ سے جاری تشدد کے واقعات کے پیش نظر مستقبل قریب میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات بحال ہوتے نظر نہیں آتے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا:''ہم نے دونوں فریقوں پر تنازعے کے دو ریاستی حل کے لیے بامقصد اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور خاص طور پر داعش کے خلاف جنگ سے اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کو دور کرنے میں مددملے گی۔

تاہم امریکی نائب صدر نے فلسطینیوں کی جانب سے اقوام متحدہ میں کیے گئے اقدامات کو اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا ہے۔اس پر ان کے سامنے بیٹھے سامعین نے داد و تحسین کے خوب ڈونگرے برسائے ہیں۔