.

ترکی : سخت سکیورٹی میں کردوں کا جشنِ نو روز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار بکر اور دوسرے علاقوں میں ہزاروں کرد سخت سکیورٹی میں موسم بہار کی آمد پر اپنا تیوہار نوروز منا رہے ہیں۔

میلے کی سب سے بڑی تقریب دیاربکر کے نواح میں منعقد کی جارہی ہے اور اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔پولیس اہلکار میلے میں شرکت کے لیے آنے والوں کی جامہ تلاشی لے رہے ہیں۔ترک وزیر داخلہ کے بہ قول ملک کے اٹھارہ صوبوں میں جشن نوروز کے موقع پر سکیورٹی فورسز کے دو لاکھ سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

دیاربکر میں منعقدہ میلے کے بیشتر شرکاء نے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے لیے بھی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے پی کے کے جھنڈے پکڑ رکھے تھے اور بعض نے جیل میں قید جماعت کے رہ نما عبداللہ عجلان کی تصاویر والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ان میں سے بعض ''ہم مزاحمت کے ذریعے جیتیں گے''،''عجلان زندہ باد '' اور'' پی کے کے عوام ہیں''،''پی کے کے یہاں موجود ہیں'' کے نعرے لگا رہے تھے۔

عبداللہ عجلان نے گذشتہ سال میلے کے موقع پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ''پی کے کے کی گذشتہ تین عشرے سے جاری مزاحمت ''غیر پائیدار'' ہوچکی ہے۔اس کو اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے کانگریس کا انعقاد کرنا چاہیے''۔

اس بیان کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد پی کے کے اور حکومت کے درمیان گذشتہ ڈھائی سال سے جاری جنگ بندی ختم ہوگئی تھی اور جولائی میں ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں کرد باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی تھی۔اس کے بعد سے تشدد کے واقعات میں سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ کرد باغی استنبول اور انقرہ میں خودکش بم حملے بھی کرچکے ہیں۔

کرد باغیوں کے حملوں کے ردعمل میں ترک حکام نے کرد اکثریتی جنوب مشرقی شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کررکھا ہے۔تاہم سوموار کو حکام نے نوروز کی تقریبات کے لیے دیاربکر کے علاقے کینار تیپ میں کرفیو اٹھا لیا تھا اور شہر میں سکیورٹی سخت کردی ہے۔پولیس شہر میں آنے والی تمام گاڑیوں کی تلاشی لے رہی تھی اور ہوٹلوں میں مقیم افراد سے بھی پوچھ تاچھ کی جارہی تھی۔

پی کے کے نے دارالحکومت انقرہ میں دو حالیہ خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔کرد باغیوں کی ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں 1984ء میں علاحدگی کے لیے مسلح تحریک کے آغاز کے بعد سے چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترکی ،یورپی یونین اور امریکا نے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے لیکن امریکا اور مغرب شام کے مسلح کرد گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ترکی ان گروپوں کو پی کے کے کی شاخیں قرار دیتا ہے اور ان کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔وہ امریکا کی جانب سے شامی کردوں کی حمایت پر بھی نالاں ہے۔