.

ٹرامپ کا ریلیوں میں مظاہرین پر تشدد کی مذمت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سیاسی جماعت ریپلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار #ڈونلڈ_ٹرامپ نے اپنی ریلی میں احتجاج کرنے والے ایک شخص پر تشدد اور ایک دوسرے شخص کو ان کے مینیجر کی جانب سے دبوچے جانے کی وڈیو سامنے آںے کے بعد کہنا ہے کہ 'پیشہ ور' مظاہرین ان کی ریلیوں میں تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی' کے پروگرام 'This Week' میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرامپ نے اپنی صدارتی مہم کے مینجر کوری لیوانڈائوسکی کے قدم کا دفاع کیا اور ان کی ریلیوں میں مظاہرہ کرنے والے افراد پر تشدد کی مذمت کرنے سے انکار کردیا۔

اس موقع پر ٹرامپ نے اپنی اس دھمکی کو بھی واپس لینے سے انکار کردیا کہ اگر ریپبلکن پارٹی نے ان کی مقبولیت کے باوجود انہیں نامزدگی نہ دی تو سڑکوں پر ہنگامے شروع ہوجائینگے۔

امریکی روزنامے "واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے سینئر رہنما ٹرامپ میں قدامت پسندی کے رجحان میں کمی کو دیکھتے ہوئے ان کا راستہ روکنے کے لئے رابطے کررہے ہیں اور ٹرامپ بھی پیر کے روز واشنگٹن میں کچھ پارٹی رہنمائوں سے ملاقات کررہے ہیں۔

ٹرامپ نے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے مگر میں ضرور کہوں گا کہ بہت سارے لوگ ناراض ہوجائینگے۔" ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے لئے جولائی میں پارٹی کے نیشنل کنونشن کے موقع پر نمائندے کا انتخاب کرے گی۔

ٹرامپ کا کہنا تھا "میں ہنگامے اور بلوے ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں کوئی مشکل کھڑی ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر یہاں آپ لاکھوں لوگوں کے جذبات کی بات کررہے ہیں۔"

امریکی ریاست ایریزونا میں ٹرامپ کی ایک ریلی کی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص احتجاج کرنے والے شخص کو مظاہرے سے باہر نکالے جانے کے دوران مکوں اور لاتوں سے مار رہا ہے۔ ایک وڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جہاں پر ٹرامپ کا مینیجر احتجاج کرنے والے ایک شخص کو اس کی قمیض سے کھینچ کر باہر نکال رہا ہے۔