.

اردن: صنف نازک مردوں کے شانہ بہ شانہ ٹیکسی ڈرائیور

مقامی کمپنی نے 20 ٹیکسی کاریں خواتین کے لیے تیار کیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اور مسلمان ملکوں میں خواتین مردوں کے شانہ بہ شانہ ان شعبوں میں بھی کام لگی ہیں جہاں عموما صنف نازک کے کام کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض مسلمان ملکوں میں مسلم خواتین ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرنے لگی ہیں۔ انہی میں #اردن ایک ایسا عرب ملک ہے جہاں خواتین نے پہلی بار ٹیکسی ڈرائیور کے پیشے کو اپنا ذریعہ روزگار بنایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اردن میں خواتین ہونا ٹیکسی ڈرائیور کا پیشہ اختیار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنا۔ یہی وجہ ہے کہ اردن کی ایک مقامی کمپنی نے خواتین کے لیے 20 کاریں تیار کی ہیں جو کرائے پر سواریوں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں۔ خواتین نے بھی ملک میں اس پیشے سے وابستگی ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر کی ہے۔

ٹیکسی چلانے والی خواتین کے لیے مسلمان معاشروں میں ان کا تحفظ ایک بڑا مسئلہ رہتا ہے۔ بالخصوص شام کے اوقات میں جب انہیں کسی کو اسپتال پہنچانا یا کہیں بھی لے جانا ہو خواتین ٹیکسی ڈرائیوروں کو اپنے تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے۔

ایک مقامی کمپنی نے صرف خواتین کے لیے ایسی 20 ٹیکسی کاریں تیار کی ہیں اور اس مہم کا نام ’’Pink Taxi‘‘ رکھا گیا ہے۔ کمپنی کے مالک عید ابو الحاج کا کہنا ہے کہ ان کے ذہن میں یہ خیال اس وقت آیا جب انہوں نے دیکھا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں خواتین ٹیکسیاں چلاتی اور اسے ذریعے روزگار بناتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ابو الحاج کا کہنا تھا کہ خواتین کے لیے خصوصی نوعیت کی ٹیکسیاں تیار کرنے کا مقصد صنف نازک کا اس شعبے میں کام کرنے کے مواقع پیدا کرنا، معاشرے کوخواتین ٹیکسی ڈرائیوروں کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پید اکرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کےشہری اور دیہی علاقوں میں اسپتالوں اور بعض دوسرے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو دیر سویر سے اپنی ڈیوٹیوں پرآنا جانا پڑتا ہے۔ خواتین ٹیکسی ڈرائیور ایسی خواتین کا سہارا بن سکتی ہیں جن کے پاس گاڑی کا اپنا بندو بست نہیں ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے #عمان کی ایک خاتون ٹیکسی ڈرائیور سے بھی بات کی اور اس پیشے کو اختیار کرنے کے بارے میں اس کے تاثرات کا جائزہ لیا۔ نادیا نامی اس ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر عمان شہر کے اندر خواتین کو مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں خواتین ٹیکسی ڈرائیوروں کی اشد ضرورت ہے اور خواتین کے مطالبے پرانہوں نے اس پیشے کو اپنایا ہے۔ سفر کرنے والی خواتین اپنی ہم جنس کےساتھ بے تکلف سفر کرتی ہیں اور انہیں سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

ایک دوسری ٹیکسی ڈرائیور صابرین نے کہا کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور کا پیشہ اختیار کرنا اس لیے پسند کرتی ہے کیونکہ یہ خواتین کی ایک طرح کی خدمت ہے۔ خواتین مردوں کے ساتھ سفر کرنا معیوب سمجھتی ہیں جب کہ خواتین کے ساتھ انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ صابرین نے کہا کہ اس کی کئی سہیلیاں خواتین ٹیکسی ڈرائیونگ کا پیشہ اختیار کرنے کی خواہاں ہیں۔