.

تیونس: ایمرجنسی کے نفاذ میں تین ماہ کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکومت نے ایمرجنسی کی حالت کے نفاذ میں تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔یہ ہنگامی حالت نومبر میں دارالحکومت میں خودکش بم دھماکے کے بعد نافذ کی گئی تھی۔داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی اور اس میں بارہ صدارتی محافظ ہلاک ہوگئے تھے۔

تیونسی صدر باجی قائد السبسی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ مشاورت کے بعد ملک میں نافذ ایمرجنسی کی حالت میں 23 مارچ سے مزید تین ماہ کے لیے توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تیونس میں نومبر کے بعد دوسری مرتبہ ہنگامی حالت کے نفاذ میں توسیع کی گئی ہے۔اس سے پہلے 22 فروری کو ہنگامی حالت کے نفاذ کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کی گئی تھی مگر اس کے باوجود مسلح جنگجوؤں لیبیا کے سرحد کے نزدیک واقع شہر بن قردان پر دھاوا بول دیا تھا۔

بن قردان میں مارچ کے اوائل میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں سات شہری اور تیرہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔ان حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں انچاس جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔

تیونس میں آج لیبیا کے پڑوسی ممالک کے حکام کا ایک اجلاس ہورہا ہے جس میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں داعش کی موجودگی کے خطرے سے نمٹنے کے طریقوں پر غور کیا جارہا ہے۔

تیونس کو سنہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے مسلح جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے حملوں کا سامنا ہے۔18 مارچ 2015ء کو مسلح افراد نے تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر کے باہر سیاحوں کی بس پر حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

اس حملے کے بعد گذشتہ سال جون میں تیونس کا مشہور ساحلی سیاحتی مقام سوسہ میں ایک ہوٹل کے احاطے میں ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں اڑتیس افراد ہلاک اور انتالیس زخمی ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں جرمن ،برطانوی اور بیلجئین سیاح شامل تھے ۔

لیبیا میں خانہ جنگی سے عراق اور شام میں برسرپیکار شدت پسند جنگجو گروپ داعش نے فائدہ اٹھا یا ہے اور اس سے وابستہ جنگجو گذشتہ سال جون سے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قابض ہیں اور اس کے بعد سے وہ دوسرے علاقوں میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زیادہ تیونسی جنگجو اس وقت عراق اور شام میں داعش یا دوسرے گروپوں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ان کے علاوہ لیبیا میں بھی تیونسی جنگجوؤں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔