.

شام سے روسی فوج کا انخلا مثبت اقدام ہے: سعودی عرب

’چار لاکھ شامی باشندوں کا خون بشار الاسد کی گردن پر ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب نے #شام میں اتاری کی گئی روسی فوجوں کی واپسی کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے #ماسکو کے اس فیصلے کی تحسین کی ہے۔ #ریاض کا کہنا ہے کہ شام سے روسی فوج کی واپسی سے #بشار_الاسد کو پسپا ہونے اور سیاسی انتقال اقتدار کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ ساتھ ہی شام کے بحران کے حل کے لیے’جنیوا 1‘ معاہدے میں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد کا بھی موقع میسر آئے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی کابینہ کا اجلاس #شاہ_سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں شام میں اسد رجیم اور اس کی حامی عسکری تنظیموں کے ہاتھوں نہتے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شامی حکومت اپنے اجرتی قاتلوں سے مل کراپنی ہی قوم کی نسل کشی کی مرتکب ہے اور پانچ سال میں 4 لاکھ لوگ لقمہ بنا دیے گئے جب کہ 12 ملین لوگوں کو گھربار چھوڑںے پر مجبور کیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی ’واس‘ کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں خلیج تعاون کونسل پر زور دیا گیا کہ وہ جنوا میں جاری مذاکرات کے دوران شام میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ اٹھانے کے لیےاپنا کردار ادا کرے۔

سعودی کابینہ نے شامی حکومت کی جانب سے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی بحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، طبی سامان اور خوراک کی رسائی روکنے کے ہتھکنڈوں کی بھی شدید مذمت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو جاری بیان میں عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ شام میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی بحالی کے لیے دل کھول کرامداد دیں، نیز عالمی برادری بشار الاسد اس کے گماشتوں کو جنگ زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے سے روکا جائے۔