.

عراق: امریکی اڈے کو داعش، عراقی ملیشیا کے غضب کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق کے شمالی حصے میں قائم کئے جانے والے ایک نئے امریکی فوجی اڈے پر #داعش نے حملہ کردیا جبکہ اس اڈے کو ایران کی حمایت یافتہ ایک شیعہ ملیشیاء نے بھی حملے کی دھمکی دی ہے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں اس بیس پر تعینات امریکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

"فائر بیس بیل" [Firebase Bell] نامی توپخانے کی یہ پوسٹ 2014ء میں امریکی فوجیوں کے عراق سے انخلاء کے بعد قائم کی جانے والی پہلی پوسٹ ہے۔ اس پوسٹ کی تعمیر کے بعد واضح ہورہا ہے کہ امریکا عراق کے حالیہ تنازع میں کس حد تک شمولیت اختیار کررہا ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس پوسٹ کے فعال ہونے تک اس کی موجودگی کو صیغہ راز میں رکھنا تھا مگر امریکی عوام سے پہلے داعش کو اس کی موجودگی کا علم ہوگیا۔

داعش نے 19 مارچ کو کاٹیوشا راکٹس کے ذریعے سے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں امریکی میرین سٹاف سارجنٹ لیوس کارڈن ہلاک اور اس کے ساتھ زخمی ہوگئے تھے۔

عراق اور شام میں داعش کے خلاف سرگرم امریکی اتحاد کے بغداد میں موجود ترجمان کرنل سٹیو وارن کا کہنا تھا کہ پیر کے روز داعش کے جنگجوئوں نے امریکی بیس پر ایک بار پھر حملہ کردیا تھا اور اس بار ایک گروپ نے چھوٹے ہتھیاروں کے ساتھ فائرنگ کی۔ وارن کا کہنا تھا کہ بیس کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

اس بیس کو ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا کی جانب سے بھی مخالف کا سامنا تھا جس کا کہنا تھا کہ وہ اس بیس میں تعینات امریکی فوجیوں کو "قابض افواج" مانے گی اور ان کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھے گی جیسا قابضوں کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔

امریکی صدر اوباما نے عہد کیا ہے کہ وہ عراق میں بڑے پیمانے پر فوجیوں کی تعیناتی نہیں کریں گے اور مقامی فوجیوں کو وہ صلاحیتیں دیں گے جس سے وہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجائیں۔ مگر امریکی فوج گزرتے وقت کے ساتھ اس تنازع میں مزید مداخلت کررہی ہے اور اس وقت عراق میں امریکی سپیشل فورسز اور اس کے علاوہ ایک میرین یونٹ بھی تعینات کردیا گیا ہے۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نئی بیس پر امریکی فوجیوں کو کچھ ہفتے قبل تعینات کیا گیا تھا جن کا مقصد ہزاروں عراقی فوجیوں کی ٹریننگ میں مصروف ٹرینرز کی حفاظت کرنا ہے۔