.

برسلز دھماکے: صدر اوباما کا بیلجیئم سے اظہارِ یک جہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے برسلز میں بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور بیلجیئم کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کو ہر طرح کی ضروری مدد مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے ہوانا میں کیوبا کے عوام سے اپنے خطاب میں برسلز میں بم دھماکوں کے ردعمل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم بیلجیئم میں اپنے دوستوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں اور بم دھماکوں کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے''۔

انھوں نے امریکا کی جانب سے بیلجیئم کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''آج کے حملے ایک اور یاددہانی ہیں کہ دنیا کو قومیت ،نسل یا عقیدے سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے کے لیے اکٹھے ہونا ہوگا''۔

صدر اوباما نے کہا کہ ''ہم ان لوگوں کو شکست سے دوچار کریں گے جو دنیا بھر میں عوام کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں''۔قبل ازیں انھیں برسلز میں بم حملوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔انھوں نے بیلجیئن وزیراعظم چارلس مشعل سے ٹیلی فون پر بات کی اور بم دھماکوں میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر بم دھماکوں میں چونتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی کیوبا سے اپنے بیلجیئن ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا برسلز میں موجود اپنے شہریوں کی حیثیت کے بارے میں جاننے کے لیے ؛کام کررہا ہے۔برسلز میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جہاں کہیں ہیں ،وہیں موجود رہیں اور اپنے ذاتی تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بم حملوں میں تین امریکی شہریوں کے زخمی ہونے سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ رپورٹس ابتدائی اورغیرمصدقہ ہیں۔

امریکا کے داخلی سلامتی کے محکمے نے کہا ہے کہ وہ برسلز میں رونما ہونے والے واقعات کا گہری نظر سے جائزہ لے رہا ہے اور وہ امریکی عوام کے تحفظ کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔محکمے نے امریکی عوام سے کہا ہے کہ وہ اگر اپنے علاقوں میں کسی قسم کی مشتبہ سرگرمی دیکھیں تو اس کی فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کو اطلاع دیں۔