.

برسلز: بموں میں کیل، بولٹ اور شیشے کا استعمال

کیل ،شیشے اور بولٹ لگنے سے کم سن بچوں سمیت متعدد افراد شدید زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں داعش کے حملہ آوروں نے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر پھوڑے گئے بموں میں کیل ،بولٹ اور شیشے استعمال کیے تھے۔ ان بم دھماکوں میں 31 افراد ہلاک اور کم سے کم 260 زخمی ہوئے ہیں اور داعش نے ان کی ذمے داری قبول کی ہے۔

بم دھماکوں میں زخمیوں کا علاج کرنے والے میڈیکل حکام نے بتایا ہے کہ بعض مجروحین اپنے جسمانی اعضاء کھو بیٹھے ہیں،بعض کے اعضاء جل چکے ہیں اور ٹوٹے ہوئے شیشے یا کیل لگنے سے انھیں شدید زخم آئے ہیں۔شدید زخمیوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

برسلز کے نواح میں واقع ایک اسپتال کے ترجمان مارک ڈی کریمر نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''بموں میں کیل رکھے گئے تھے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ زخمی ہوں''۔ایک اور اسپتال نے ایک زخمی کا ایکس رے جاری کیا ہے،اس میں اس کی چھاتی میں بولٹ لگا ہوا تھا۔

برسلز میں بم دھماکوں کے بعد بیلجیئم نے دہشت گردی کے خطرے کی سطح تین سے بڑھا کر انتہائی چار کر دی ہے۔ بدھ کو بھی دارالحکومت کا ہوائی اڈا بند ہے۔ بیلجیئم میں آج سے بم دھماکوں میں مرنے والوں کی یاد میں تین روزہ قومی سوگ منایا جارہا ہے۔ وزیراعظم چارلس مشعل نے ہوائی اڈے اور ٹرین پر بم دھماکوں کو تباہ کن حملے قرار دیا ہے۔

پولیس دارالحکومت میں چھاپا مار کارروائیاں کررہی ہے اور پانچ سو فوجی بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شاہراہوں پر اکا دکا گاڑیاں ہی نظر آ رہی تھیں۔ پولیس نے چیک پوائنٹس شاہراہوں پر جگہ جگہ بھی قائم کردیے ہیں۔فرانس اور بیلجیم نے اپنی مشترکہ سرحد پر سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

برسلز کے علاقے شائربیک میں منگل کی شب ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران ایک مکان سے دھماکا خیز مواد ملا ہے اور اس میں دوسری اشیاء کے علاوہ کیل بھی رکھے گئے تھے۔تفتیش کاروں کو کیمیائی مواد اور داعش کا ایک پرچم بھی ملا ہے۔