.

شام میں جنگ بندی کے ایام میں متعدد ایرانی فوجی افسر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے خبر رساں اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شام میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری جنگ بندی کے دوران مختلف علاقوں میں متعدد ایرانی فوجی افسر ہلاک ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے ایام میں بھی ایرانی فوجی افسروں کی شام میں ہلاکتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جنگ کو دانستہ طور پر طول دینا اور جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ جنگ بندی کے ایام میں ہلاک ہونے والے پاسداران انقلاب کے افسران میں کرنل محسن ماندنی شامل ہیں۔ کرنل ماندنی کا تعلق وسطی ایران کے ضلع فارس کے سبندان شہر سے ہے۔ انہیں #شام پہنچے 35 دن ہوئےتھے اور وہ 3 روز پیشتر لڑائی کے دوران ہلاک ہوگئے۔

#پاسداران_انقلاب کے دو دیگر فوجی افسر جن کا تعلق فوج کی ’’انصار مہدی‘‘ یونٹ سے تھا بھی شام میں جنگ بندی کےایام میں ہلاک ہوئے۔ ان کی شناخت کرنل داؤد مراد خانی اور رحمانی بہرامی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ وہ شام میں جنگ بندی کے کچھ وقت بعد شمالی حلب میں لڑائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔

گذشتہ ہفتے شام میں مارے جانے والے ایک فوجی افسر کی شناخت مجید نام آور کے نام سے بھی کی گئی ہے۔ مجید آور پہلے بھی شام میں لڑائی میں شریک رہے ہیں مگر زخمی ہونے کے بعد انہیں واپس تہران لے جایا گیا تھا۔ علاج کے بعد وہ دوبارہ شام آگئے تھے۔

ایران کی ایک نیوز ویب سائیٹ ’’گلستان 24‘‘ کے مطابق نان آور نامی فوجی عہدیدار پاسداران انقلاب میں کئی اہم عہدوں پرکام کرچکاہے۔ اس نے سنہ 2009ء میں اصلاح پسندوں کی سبز انقلاب تحریک کچلنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا تھا۔