.

عراق پریلغار: امریکا، ایران کا خفیہ گٹھ جوڑ طشت ازبام!

صدام حسین کا تختہ الٹنے میں ایران نے امریکا کی بھرپور مدد کی: زلمے خلیل زاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق میں #امریکا کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر #جارج_بش کے دور میں #ایران اور امریکا کی حکومت کے درمیان عراق کے معاملے پر باہمی تعاون قائم رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2006ء میں امریکی حکومت اور ایرانی #پاسداران_انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم ’’فیلق القدس‘‘ کے سربراہ جنرل #قاسم_سلیمانی کے درمیان رابطے قائم تھے اور وہ عراق کی سیاسی صورت حال کے بارے میں باہم صلاح مشورہ بھی کرتے رہے ہیں۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی اور امریکا کے درمیان رابطے نہ صرف ما بعد صدام قائم رہے بلکہ عراقی صدر کا تختہ الٹنے میں بھی ایران نے بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ سنہ 2003ء میں عراق پر امریکی یلغار سے قبل اور اس کے بعد #واشنگٹن اور #تہران کے حکام کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہی تھیں۔

سابق امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ امریکا اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان بالواسطہ تعاون سنہ 2006ء میں اس وقت بھی ہوا جب امریکا نے وزیراعظم ابراہیم الجعفری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ اس سے قبل سنہ 2003ء کے اوائل میں بھی امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان کئی خفیہ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

امریکی اخبار لکھتا ہے کہ زلمے خلیل زاد کا بیان امریکی صدر جارج بش کے ایران کے بارے میں خیالات سے متصادم دکھائی دیتا ہے کیونکہ ایران جارج بش کو ’شر‘ کا محور قرار دیتا رہا ہے۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ سنہ 2006ء میں اس وقت کے وزیراعظم ابراہیم الجعفری ملک میں فرقہ واریت کی روک تھام میں ناکام رہے تھے امریکیوں کو بھی اس بات پر تشویش ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جعفری کو ہٹانے کے لیے ایران سے صلاح مشورہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق کے سیاسی رہ نماؤں نے ابراہیم الجعفری کو امریکا اور ایران کےدرمیان خفیہ روابط کے بارے میں آگاہ کیا اور ساتھ ہی بتایا کہ جلد ہی جنرل قاسم سلیمانی بغداد پہنچ رہے ہیں تاکہ انہیں اقتدار سے علاحدہ ہونے پرقائل کرسکیں۔

انھوں نے بتایا اپریل 2006ء میں بغداد کے انتہائی حساس علاقے گرین زون میں جنرل قاسم سلیمانی کو پہنچنے کی اجازت دی گئی۔ گرین زون کی سیکیورٹی کی ذمہ داری امریکی اسپیشل فورس اور عراقی ایلیٹ فورس کے پاس تھی۔ جنرل قاسم سلیمانی نے امریکا کے کہنے پر ابراہیم الجعفری کو عہدہ چھوڑنے اور نوری المالکی کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سونپنے کا قائل کرلیا تھا۔

زلمےخلیل زاد کے مطابق اگرچہ جنرل سلیمانی کی عراق آمد امریکا کے صلاح مشورے سے ہوئی تھی مگر وہ یہی سمجھتے رہے کہ امریکا کو ان کی بغداد آمد کا کوئی علم نہیں ہے۔

سابق امریکی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2003ء کے اوائل میں جب امریکیوں نے عراق پر فوج کشی کا پروگرام ترتیب دینا شروع کیا تو اس وقت بھی بش انتظامیہ کے ایرانی حکام کے ساتھ صلاح مشورے ہوئے۔ خفیہ طور پر ہونے والی ان ملاقاتوں میں صدام حسین کا تختہ الٹںے اور اس کے بعد عراق کےسیاسی نقشہ راہ پر بات چیت کی گئی تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زلمے خلیل زاد جلد ہی اپنی ایک کتاب شائع کرنےوالے ہیں جس میں وہ عراق اور افغانستان میں امریکا کے سفیر کے طورپر دی گئی خدمات اور اس عرصے میں پیش آنے والے اہم واقعات کی تفصیل بیان کریں گے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق کے معاملے پر جارج بش اور ایران کے درمیان تعاون کی خبریں نہایت اہمیت کی حامل ہیں اور ان سے ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ گٹھ جوڑ کا بھی پتا چلتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی سفیر نے عراق جنگ کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کی نشاندہی کی ہے۔ اس سے قبل ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی بھی دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا نے افغانستان اور عراق پرحملوں سے قبل ایران سے رابطہ کیا تھا۔