.

یمن بھر میں 10 اپریل سے جنگ بندی ہو گی: اقوام متحدہ

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں میں 18 اپریل کو کویت میں مذاکرات ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے کہا ہے کہ یمن بھر 10 اپریل سے جنگ بندی ہوجائے گی۔اس کے ایک ہفتے کے بعد متحارب فریقوں کے درمیان نئے امن مذاکرات ہوں گے۔

اسماعیل ولد شیخ احمد نے نیو یارک میں بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''تنازعے کے فریقوں نے 10 اپریل کی نصف شب سے ملک بھر میں تمام جنگی کارروائیاں روکنے سے اتفاق کیا ہے۔اس کے بعد 18 اپریل کو کویت میں امن مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا''۔

گذشتہ روز یمن کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے بھی ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت اور حوثی شیعہ باغیوں کے نمائندوں کے درمیان 17 اپریل سے امن مذاکرات شروع ہونے کی اطلاع دی تھی۔اب ان میں ایک دن کی تاخیر کردی گئی ہے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی ملیشیا مذاکرات کے اس دور سے ایک ہفتہ قبل جنگ بندی پر پہلے ہی متفق ہوچکے ہیں۔دارالحکومت صنعا میں گذشتہ اتوار کو اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد اور حوثی باغیوں کے درمیان بات چیت میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

یمنی عہدے داروں کے بہ قول حوثی شیعہ باغیوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد سے بھی اتفاق کیا ہے،اس کے تحت وہ اپنے ہتھیار حوالے کرنے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ علاقوں سے انخلاء کے پابند ہیں۔

یمنی حکومت اور حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار فورسز کے درمیان متعدد مرتبہ جنگ بندی پر اتفاق ہوچکا ہے مگر برسرزمین اس پر عمل درآمد نہیں کرایا جاسکا تھا اور تنازعے کے فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔اس سے پہلے 15 دسمبر کو یمن میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کی بار بار خلاف ورزی کی گئی تھی جس کے بعد 2 جنوری کو سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے جنگ بندی کو ختم کرنے کا ا علان کردیا تھا۔