.

برسلز میں تین حملہ آوروں میں سے ایک مفرور ہے : حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کی پولیس نے بدھ کی صبح ایک بیان میں برسلز دھماکوں کے دو خودکش حملہ آوروں کی شناخت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے نام ابراہیم بکراوی اور خالد بکراوی ہیں.. جب کہ تیسرے مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے۔ منگل کے روز ہونے والے دھماکوں میں 34 افراد ہلاک درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

بیلجیئم کے وزیر داخلہ جین جیمبون نے خود اعلان کیا کہ ہوائی اڈے اور میٹرو اسٹیشن کے دھماکوں میں تیسرا مشتبہ شخص وہ ہی ہے جو ڈیپارچر لاؤنج میں سی سی ٹی وی کیمرے کی تصویر میں سر پر ٹوپی (ہیٹ) پہنے ہوئے دیگر دو افراد کے ساتھ نظر آرہا ہے.. اور اسی شخص نے وہ بم نصب کیا تھا جو پھٹ نہیں سکا۔

وزیر داخلہ نے یہ بات امریکی ٹی وی سی این این کو بتائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری استغاثہ کا خیال ہے مشتبہ شخص کے ساتھ جو دونوں مرد تھے انہوں نے خود کو ڈیپارچر لاؤنج میں دھماکے سے اڑایا.. "تاہم خوش قسمتی سے تیسرا بم نہیں پھٹ سکا"۔

بیلجیئم کے وزیر داخلہ نے جو کچھ ذکر کیا اس سے واضح طور پر مسافروں کا روپ دھارنے والے ان 3 افراد کی جانب اشارہ ہوتا ہے.. جن کے بارے میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ایک خصوصی رپورٹ تیار کی تھی.. اس رپورٹ میں یہ بات موجود ہے کہ ان میں سے دو افراد نے اپنے دھماکا خیز مواد کو استعمال کرلیا.. جب کہ تیسرا شخص اپنے مواد کو ایئرپورٹ پر چھوڑ کر نکل گیا تاکہ ممکنہ طور پر دارالحکومت کے بیچ موجود میٹرو اسٹیشن پر دیگر دھماکا خیز مواد رکھ سکے.. جہاں دھماکے میں 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جب کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں میں 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 141 افراد زخمی ہوئے۔

تیسرے شخص (ٹوپی والے) کے بارے میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس کا نام نجم العشراوی ہے۔ یہ 22 سالہ نوجوان ترک نژاد ہے اور اس کے پاس کالے رنگ کی Audi S4 گاڑی ہے جو بیلجیئم میں رجسٹرڈ ہے۔ لکسمبرگ ریڈیو کے مطابق العشراوی کا نام گزشتہ اپریل سے سیکورٹی اداروں کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

ادھر بیلجیئم میں بحرانوں سے متعلق مرکز نے منگل کے روز بتایا تھا کہ برسلز ایئرپورٹ کم از کم آدھے دن تک فضائی پروازوں کے لیے بند رہے گا.. جب کہ ہالینڈ کے سیکورٹی اور انصاف کے وزیر آرڈ وین ڈیئر اشٹوئر نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں تحریر کیا کہ اس بات کا امکان ہے کہ بیلجیئم کی درخواست پر جمعرات کے روز سیکورٹی کے ذمہ دار یورپی وزراء کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جائے۔