.

بیلجیئم کا ترکی کے انتباہ کو نظرانداز کرنے کا اعتراف

بیلجیئن وزیراعظم کا وزیر انصاف اور وزیر داخلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کے حکام نے بالآخر اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ترکی کے داعش کے جنگجوؤں سے متعلق انتباہ کو نظر انداز کیا تھا جبکہ ایسے مزید شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بیلجیئم کے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خودکش بم دھماکوں کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

برسلز میں بدھ کے روز بم دھماکوں میں ملوّث ایک حملہ آور اور اس کے متعدد ساتھی ابھی تک مفرور ہیں۔پولیس نے جمعرات کی شب دارالحکومت اور اس کے نواحی علاقوں میں چھاپا مار کارروائیوں کے دوران چھے مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ادھر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی ایک مشتبہ شخص کو حملے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔تاہم فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس مشتبہ شخص کا برسلز میں ہوائی اڈے اور میٹرو ٹرین کے اسٹیشن پر بم دھماکوں اور 13 نومبر کو پیرس میں حملوں سے فی الوقت کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے۔

بیلجیئم میں حکومت نے دہشت گردی کے حملے کے خطرے کی سطح ایک درجہ کم کردی ہے۔البتہ حکام کا کہنا ہے کہ صورت حال بد ستور سنگین ہے اور ایک اور ممکنہ حملے کا خطرہ ہے۔بیلجیئم میں منگل کے روز بم دھماکوں کے بعد سے سکیورٹی انتہائی الرٹ ہے۔ان بم دھماکوں میں اکتیس افراد ہلاک اور دو سو ستر زخمی ہوگئے تھے۔

بیلجیئن وزیر انصاف کوئن گینز کا کہنا ہے کہ ''جو کچھ رونما ہوا ہے،ہم اس پر فخر نہیں کرسکتے ہیں۔ہم نے دراصل وہ کام کیا ہے جو ہمیں نہیں کرنا چاہیے تھا''۔ان کا اشارہ حملوں کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کی جانب تھا۔

بیلجیئن پولیس برسلز کے ہوائی اڈے پر حملے میں ملوّث ایک حملہ آور کی تلاش کے لیے چھاپا مار کارروائیاں کررہی ہے۔اس کا کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج سے پتا چلا تھا اور وہ بم دھماکوں کے بعد وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

تاہم پراسیکیوٹرز نے بیلجیئن کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف اور فرانسیسی اخبار لی موندے اور بی ایف ایم ٹیلی ویژن کی ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ایک پانچواں حملہ آور بھی تھا اور وہ بھی مفرور ہے۔اس کو برسلز میٹرو پر نصب نگرانی کے کیمروں میں ایک خودکش بمبار کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔اس نے بہت بڑا بیگ اٹھا رکھا تھا۔اب یہ واضح نہیں ہے کہ یہ شخص بم دھماکے میں مارا گیا تھا یا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ پیرس میں حملوں کے بعد بیلجیئن حکام مفرور حملہ آور کی تلاش میں تھے لیکن وہ ان کو پکڑنے میں ناکام رہے ہیں۔اس دوران وہ محفوظ پناہ گاہوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہنے ،بم بنانے اور دھماکے کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

بیلجیئن وزیر داخلہ جان جمبون نے جمعرات کو اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر آپ تمام چیزوں کو ایک ترتیب سے رکھیں ،تو آپ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے خود سے بڑے سوال پوچھ سکتے ہیں''۔انھوں نے وزیر انصان گینز کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم وزیراعظم چارلس مشیل نے ان کا استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کام کرتے رہیں۔

ان میں سب سے بڑا سوال ترکی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس نے بیلجیئم کو گذشتہ سال جولائی میں برسلز میں حملے کرنے والے ایک جنگجو ابراہیم البکراوی کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی جنگجو ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ''برسلز میں حملہ کرنے والوں میں سے ایک شخص (ابراہیم البکراوی) کو ہم نے جون 2015ء میں گرفتار کیا تھا اور پھر اس کو نیدر لینڈز ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔ہم نے اس کی بے دخلی کی اطلاع انقرہ میں بیلجیئن سفارت خانے کو 14 جولائی 2015ء کو دی تھی لیکن بیلجیئم نے ہمارے اس انتباہ کو نظرانداز کردیا تھا کہ یہ شخص غیرملکی جنگجو ہے''۔

ڈچ حکام نے کچھ عرصے کے بعد ابراہیم البکراوی کو رہا کردیا تھا کیونکہ انھیں اس کا ''دہشت گردی سے تعلق کا کوئی سراغ'' نہیں ملا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا البکراوی کو نیدر لینڈز سے بیلجیئن حکام کے حوالے کیا تھا یا وہ رہائی کے بعد خود اپنے سکونتی وطن پہنچا تھا۔ ابراہیم البکراوی اور اس کے بھائی خالدالبکراوی نے برسلز میں خودکش بم دھماکے کیے تھے اور داعش نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

برسلز میں ان کے حملے کا نشانہ بنانے والے سب وے اسٹیشن سے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر واقع یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹرز میں گذشتہ روز یورپی وزرائے داخلہ اور وزرائے انصاف کا اجلاس ہوا ہے اور اس میں انھوں نے دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئےاس کو اپنے کھلے اور جمہوری معاشرے پر حملہ قرار دیا ہے۔انھوں نے یورپی پارلیمان پر زوردیا ہے کہ وہ ایک سمجھوتے کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکام ہوائی اڈوں پر مسافروں کے ڈیٹا کی آپس میں شراکت کرسکیں۔