.

سعودی عرب: جڑواں پاکستانی بچیوں کی سرجری کی تیاری

ہفتے کو ہونے والی سرجری کی کامیابی کے 80 فی صد امکانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے طبی ماہرین نے خادم الحرمین الشریفین #شاہ_سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے دو ننھی جڑواں پاکستانی بچیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے سرجری کی تیاری شروع کردی ہے۔ سرجری کا عمل آئندہ ہفتے کے روز #ریاض میں وزارت برائے نیشنل گارڈز کے زیراہتمام شاہ عبدالعزیز میڈیکل کمپلیکس میں قائم شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال میں کیاجائے گا۔ ماہرین توقع ظاہر کی ہے کہ جڑیاں بچیوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے آپریشن کی کامیابی کے 80 فی صد امکانات موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے شاہی دیوارن کے مشیر اور میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے بتایا کہ دو جڑواں پاکستانی بچیوں فاطمہ اور مشاعل اور کو شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے جہاں آپریشن سے قبل ان کا طبی معائنہ جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے دونوں بچوں کے آپریشن کاجائزہ لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر الربیعہ نے بتایا کہ دونوں جڑواں بچیوں کا مجموعی وزن 20 کلو گرام ہے اوران کی سرجری کی کامیابی کے 80 فی صد امکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں بچیاں سینے اور پیٹ سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے سینے اور جگر کے وال باہم متصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپریشن کا مرحلہ سات گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے جس میں کم سے کم 20 سرجن حصہ لیں گے۔

خیال رہےکہ جڑواں پاکستانی بچیاں فاطمہ اور مشعل تین مارچ بروز جمعرات کو ریاض پہنچائی گئی تھیں جہاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سرکاری سطح پران کے علاج کے احکامات جاری کیے تھے۔ جڑواں بچیوں کے والدین نے سعودی حکومت کی جانب سے ان کی بچیوں کے علاج میں معاونت پرخصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔