.

کراجزک کو سزا، بوسنیا میں قتل عام کا دردناک باب بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے بوسنیائی سربوں کے سابق لیڈر راڈووان کراجزک کو مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ساتھ ہی سابق یوگو سلاویہ کی تاریخ کا ایک ''دردناک باب'' بھی ختم ہوگیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے جمعرات کی شب اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ ''ہم بوسنیا میں نسل کشی کی ہولناکیوں کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ہم سابق یوگو سلاویہ میں تنازعے کے دوران تمام فریقوں کی جانب سے مرتکبہ جرائم کو بھی نہیں بھولیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ٹرائل چیمبر کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد ہم سابق یوگو سلاویہ میں تنازعے کی اسٹوری کے ایک اور دردناک باب کو بند کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھ گئے ہیں''۔

اقوام متحدہ کے جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کے ججوں نے مسٹر کراجزک کو 1992ء سے 1995ء تک بوسنیا میں تنازعے کے دوران قتل اور لوگوں کو تعذیب دینے کا مجرم قرار دیا ہے۔وہ سابق یوگو سلاویہ کی سب سے نمایاں شخصیت ہیں جس کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

ٹرائبیونل نے انھیں بوسنیا کے قصبے سربرنیکا میں قتل عام ،لوگوں کو دربدر کرنے ،یرغمال بنانے اور ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کے الزامات میں قصور وار دے کر چالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سربرنیکا میں 1995ء میں سربوں نے آٹھ ہزار مسلمان مردوں اور نوجوان لڑکوں کا چُن چُن کر قتل عام کیا تھا۔یورپ کی سرزمین پر دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ بد ترین خونریزی تھی۔

درایں اثناء اقوام متحدہ میں متعیّن امریکی سفیر سمنتھا پاور نے کراجزک کو مجرم قرار دیے جانے پر ایک جذباتی بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ''اس دن کا طویل عرصے سے انتظار کیا جارہا تھا''۔سمنتھا 1993ء سے 1995ء تک سابق یوگو سلاویہ میں بطور صحافی کام کرتی رہی تھیں اور انھوں نے بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو میں اپنی آنکھوں سے لوگوں کا قتل عام ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

انھوں نے کراجزک کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ایک ''خوش باش پروپیگنڈے باز تھا اور وہ تب کسی احتساب یا اپنے خلاف کسی کارروائی کے خوف سے بے نیاز ہوکر تشدد آمیز کارروائیوں کی نگرانی کررہا تھا۔وہ اس بات میں یقین رکھتا تھا کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتا ہے''۔

انھوں نے بوسنیا میں تشدد کے واقعات اور کراجزک کی کارستانیوں کا آج کے دور میں شام میں صدر بشارالاسد کی سفاکیت ،نائیجیریا میں بوکو حرام کے لیڈر ابوبکر شیخاؤ اور داعش کے لیڈر ابو بکر البغدادی کی تشدد آمیزن کارروائیوں سے موازنہ کیا ہے۔

یادرہے کہ امریکا نے اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر 1995ء میں بوسنیائی سربوں پر فضائی حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں وہ مسلم اکثریتی شہروں اور قصبوں کا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔اس کے ایک سال کے بعد امریکی ریاست اوہائیو میں ایک فوجی اڈے پر سابق یوگوسلاویہ کے لیڈروں کے درمیان مذاکرات کی بھی میزبانی کی تھی اور ان مذاکرات کے نتیجے میں سربیا ،کروشیا اور بوسنیا کے صدور نے خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔