.

امریکا اور روس براہ راست شامی مذاکرات پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا ہے کہ ماسکو اور واشنگٹن شامی صدر کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان "براہ راست مذاکرات" کرنے کے واسطے دباؤ ڈالیں گے۔ اس لیے کہ جنیوا میں فریقین کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کا دور فائدہ مند نہیں رہا۔

ماسکو میں روسی صدر ولادیمر پوتن اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان 4 گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد لاؤروف کا کہنا تھا کہ "ہم اس امر پر متفق ہوگئے ہیں کہ حکومتی وفد اور اپوزیشن کے تمام فریقوں کے درمیان جلد از جلد براہ راست مذاکرات شروع کرانے کے لیے دباؤ ڈالا جائے"۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا کہ واشنگٹن اور ماسکو شام میں اقتدار کی سیاسی منتقلی کے لیے زور لگائیں گے۔ دونوں ممالک اگست تک شام میں نیا آئین چاہتے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کے روز جان کیری یہ باور کراچکے ہیں کہ شام میں فائر بندی کے نتیجے میں وہاں پرتشدد واقعات کی سطح کم ہوئی ہے۔ تاہم وہ زیادہ بڑے پیمانے پر اس میں کمی کے خواہش مند ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے انسانی بنیادوں پر زیادہ وسیع امداد کی بھی اپیل کی۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کو ماسکو میں بات چیت کے آغاز میں بتایا کہ "ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تین ہفتے قبل بہت ہی کم لوگوں کا خیال تھا کہ شام میں لڑائی کی کارروائیاں رکنا ممکن ہے۔ اس حوالے سے قدرے پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تشدد میں خواہ معمولی سی ہی کمی آئی ہے مگر یہ بے فائدہ نہیں"۔