.

امریکا کی نرمی ایرانی اشتعال انگیزیوں میں مددگار: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ اسٹڈیز کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران حکومت کے ساتھ واشنگٹن کی نرمی خطے میں ایران کی توسیع اور اس کے زہر آلود عزائم پھیلانے میں مددگار ثابت ہوئی۔

رپورٹ کے لکھاری اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ اسٹڈیز میں عرب پالیسی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ شنکر کا کہنا ہے کہ "گزشتہ جون میں نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد سے ایرانی "اشتعال انگیزیوں" کے حوالے سے امریکا نے جس رواداری اور بے پروائی کا مظاہرہ کیا اس نے خطے میں واشنگٹن حکومت کے مقام اور صداقت کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے بالخصوص اس کے خلیجی حلیفوں کی نظر میں"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال جنوری میں تہران نے خلیج عربی کے پانی میں تربیتی مہم سرانجام دینے والے 10 امریکی عسکری ملاحوں کو گرفتار کرلیا تھا۔ اس وقت بھی امریکا نے بطور سپرپاور متوقع ردعمل کا اظہار نہیں کیا، بالخصوص جب ایرانیوں نے گرفتار شدگان کی وڈیو جاری کی تھی جس کو بعض حلقوں نے "باعث اشتعال" قرار دیا تھا۔

شنکر نے باور کرایا کہ فوجی اہل کاروں کی رہائی کے ایک روز بعد تہران کی جانب سے ان کی وڈیو جاری کرنا "جنیوا کنونشن" کی خلاف ورزی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ایرانیوں کی جانب سے ہفتوں بعد بھی گرفتاری کے نئے کلپس نشر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ان میں ایک امریکی ملاح دوران قید تقریبا روتا دکھائی دیا۔ اس دوران ایرانی حکومت نے فخریہ طور پر بتایا کہ اس نے ملاحوں کے پاس سے برآمد ہونے والے آلات سے سیکڑوں صفحوں پر مشتمل معلومات کو "حذف" کردیا۔


تہران کا اشتعال انگیز موقف

ڈیوڈ شنکر کے نزدیک "نیوکلیئر معاہدے اور پابندیاں اٹھائے جانے کے باوجود ابھی تک واشنگٹن کے حوالے سے تہران کا موقف باعث اشتعال اور مقابلے پر مبنی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اوباما انتظامیہ معاہدے کو خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتی ہے، اس وجہ سے اس نے ایران کے غیرمحتاط رویے کا جواب بے پروائی کی صورت میں دیا۔ اگرچہ اس کمزوری کے اظہار کا مقصد جی حضوری نہ تھا۔ ڈیوڈ شنکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ "واشنگٹن نے خطے میں درپیش ایرانی چیلنجوں کے حوالے سے مطلوبہ توجہ مبذول نہیں کی"۔


واشنگٹن کے حلیفوں کی تشویش

ڈیوڈ شنکر کے خیال میں "ایرانی اشتعال انگیزیوں اور امریکا کی عدم ممانعت سے واشنگٹن کے ان سنی حلیفوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے جو ایران کے بارے میں امریکا کی جانب سے پیش کردہ سیکورٹی ضمانتوں کا اعتبار کر بیٹھے تھے۔ بالخصوص اوباما اعلانیہ طور پر ایسی ہچکچاٹ کا اظہار کررہے ہیں جو سعودی عرب کی اہانت کے قریب قریب ہے"۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کا شام میں ایرانی کردار اور حزب اللہ اور عراقی اور افغانی ملیشیاؤں کے ذریعے بشار الاسد کے لیے ایرانی سپورٹ کو قبول کرنا، ان سے دنیا بھر میں امریکا کے کردار پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔

ایران کی اشتعال انگیزیاں جاری

رپورٹ کے لکھاری نے اس جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ ایرانی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ یہاں موقوف نہیں ہوا بلکہ یہ نئے بیلسٹک میزائل کے تجربے اور بحرین میں شیعوں کے لیے بکتربند میں سرائیت کرجانے والے دھماکا خیز مواد کی اسمگلنگ تک جا پہنچا ہے۔ تاہم امریکا نے اس کے جواب میں اپنے ذمہ داران کی زبانی بعض مذمتی بیانات پر ہی اکتفا کیا۔

رپورٹ کے اختتام پر ڈیوڈ شنکر کہتے ہیں کہ "اگر اوباما انتظامیہ واقعتا نیوکلیئر معاہدے کے تحت ایران پر روک لگانے میں سنجیدہ ہے تو اسے خطے کے لیے اپنے ویژن کی کیفیت کے حوالے سے مزید شعور اور بیداری کا حامل بننا پڑے گا۔ سفارت کاری کی اپنی اہمیت ہے اور یہ صداقت کی حامل روک کے نظام سے متعلق ہے۔ یقینا امریکا کی جانب سے جاری خوشامد کی قیمت ایران کی حوصلہ افزائی اور اس کو مزید جرات مند بنانے کی صورت میں ادا کرنا ہوگی"۔