.

شام : روسی طیاروں نے اپنے ہی افسر کو نشانہ بنا ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خبر رساں ایجنسیوں نے روسی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام کے تاریخی شہر تدمر کے نزدیک جمعرات کے روز روس کی اسپیشل فورس کا ایک اہل کار ہلاک ہوگیا۔ تدمر وہ ہی شہر ہے جسے شامی سرکاری فوج داعش تنظیم سے واپس لینے کی کوشش کررہی ہے۔

شام کے شمال مغرب میں حمیمیم کے اڈے میں روسی فوج کے نمائندے نے انٹرفیکس ایجنسی کو بتایا کہ "اسپیشل فورس کا مذکورہ اہل کار روسی طیاروں کے لیے دہشت گرد اہداف کی نشان دہی کرتے ہوئے مارا گیا"۔

فوجی نمائندے نے مزید بتایا کہ جب روسی افسر کو اس بات کا احساس ہوگیا کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کے محاصرے میں پھنس چکا ہے تو اس نے اپنی گرفتاری پر موت کو ترجیح دی اور روسی طیاروں کو بمباری کے لیے اپنی موجودگی کے مقام سے آگاہ کیا۔

شدت پسند تنظیم داعش نے جمعہ کے روز تدمر کے نزدیک لڑائی میں ایک فوجی مشیر سمیت روسی فوج کے 5 اہل کاروں کے مارے جانے کا اعلان کیا۔

تنظیم نے ایک وڈیو بھی جاری کی جس میں "روسی فوجی مشیر" کی لاش، ہتھیار، فولادی ٹوپی اور ہنگامی طبی امداد کا بکس بھی دکھایا گیا ہے جس پر روسی زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے۔

شامی فوج روسی طیاروں کی معاونت سے کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد جمعرات کے روز تاریخی شہر تدمر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ اس شہر پر داعش نے ایک سال قبل قبضہ کرلیا تھا۔

روس کے سرکاری ذرائع کے مطابق اسپیشل فورس کا یہ مقتول افسر گزشتہ برس 30 ستمبر کو شام میں روسی مداخلت کے بعد معرکوں کے دوران ہلاک ہونے والا پانچواں روسی ہے۔