.

عدن میں تین سلسلہ وار خودکش حملے، 22 افراد ہلاک

داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن کے جنوبی علاقے اور موجودہ حکومت کے عبوری دارالحکومت #عدن میں جمعہ کے روز بارود سے بھری کاروں کے ذریعے کیے گئے تین خودکش حملوں میں کم سے کم 22 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں نے یہ حملے سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر کیے ہیں جس کے نتیجے میں چیک پوسٹوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دو کار بم دھماکے عدن کے مغربی علاقے الشعب کالونی میں ہوئے جہاں #المنصورہ کے مقام پر ایمبولینس میں نصب دھماکہ خیز مواد دھماکے سے پھٹ گیا۔

دوسرا کار خودکش بم حملہ شمال مغربی عدن میں ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’#داعش‘‘ نے عدن میں ہونے والی دہشت گردی کی تازہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ داعش کی ترجمان خبر رساں ایجنسی’’اعماق‘‘ کے مطابق ان بم دھماکوں میں کم سے کم 27 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ عدن کا یہ علاقہ یمنی حکومت نے سعودی عرب اور دوسرے عرب اتحادیوں کی مساعی کے بعد باغیوں سے واپس لینے کے بعد حکومت کا عبوری دارالحکومت قرار دیا تھا تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے ایک ملین آبادی والے علاقے، عدن میں مسلسل بم دھماکے بھی ہوتے رہے ہیں۔