.

پیرس دھماکوں سے متعلق صلاح عبدالسلام کے انکشافات !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے روزنامے "لومونڈ" کے مطابق پیرس دھماکوں سے تعلق رکھنے والے مشتبہ ملزم صلاح عبدالسلام نے اپنے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے محمد بالقاضی یا محمد بلقاید کے پاس روپوش ہونے کی کوشش کی تھی۔

تقریبا دو گھنٹے تک جاری رہنے والی تحقیقات کے دوران عبدالسلام نے بتایا کہ پیرس حملوں کے فورا بعد اس نے رینالٹ کلیو ماڈل کی ایک گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ اس گاڑی میں بلال حدفی اور دیگر دو افراد (نام نہیں بتائے) بھی سوار تھے، جن کو اسے فرانس کے بین الاقوامی اسٹیڈیم پہنچانا تھا اور پھر چاروں افراد کو بارودی بیلٹ باندھ کر وہاں خودکش دھماکے کرنے تھے۔ تاہم اس نے پلان میں ترمیم کردی اور تینوں ساتھیوں کو اسٹیڈیم کے نزدیک اتار کر خود آگے روانہ ہوگیا اور پھر گاڑی کو نامعلوم مقام پر چھوڑ کر فرار ہوگیا۔

دوسری جانب صلاح عبدالسلام کے ایک عزیز عابد عبرکان جس کو برسلز میں 18 مارچ کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ صلاح نے اس کے گھر میں روپوشی کے دوران بتایا کہ صلاح کی بارودی بیلٹ میں دھماکا خیز مواد کم تھا !

اس دوران صلاح نے حملوں میں اپنے کردار کو کم کرنے کی کوشش کی اور بعض لوجسٹک امور تک محدود ہوگیا۔ ان میں حملوں کے دوران استعمال ہونے والی گاڑیوں کو کرائے پر لینا اور پیرس میں دہشت گردوں کے لیے ہوٹل کے کمرے بک کروانا شامل تھا۔

جہاں تک ان حملوں کی منصوبہ بندی میں اہم ترین کردار کا تعلق ہے تو وہ صلاح کے بھائی ابراہیم نے ادا کیا۔ ابراہیم مالی امور کا نگراں تھا جب کہ عبدالحمید ابا عود دہشت گرد گروپ کا سربراہ تھا۔

صلاح عبدالسلام نے بتایا کہ اس نے ابا عود کو صرف ایک ہی مرتبہ دیکھا تھا اور وہ بھی پیرس حملوں سے دو روز قبل 11 نومبر کی رات بیلجیئم کے شہر شارلروآ میں۔

ادھر صلاح نے دھماکوں کے بعد اسکاربیک کے علاقے میں محمد بالقاضی یا بلقاید نامی ایک شخص سے اپنی ملاقات کا اعتراف کیا۔ اس کے تقریبا 10 روز بعد عبدالسلام اور محمد بالقاضی اسکاربیک سے ایک ٹیکسی میں فوریسٹ مینوسپلٹی میں کسی محفوظ پناہ گاہ کی جانب روانہ ہوگئے۔

گرفتاری

یاد رہے کہ صلاح عبدالسلام 15 مارچ کو بیلجیم کی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا۔ اس روز پولیس کے چھ افسران (چار بیلجیئن اور دو فرانسیسی) نے برسلز کے علاقے فوریسٹ میں ایک عمارت کی چوتھی منزل پر واقع اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا تھا۔ پولیس کو حاصل معلومات کے مطابق یہ اپارٹمنٹ لوگوں سے خالی تھا اور اس میں پانی اور بجلی بھی نہیں تھی۔ تاہم چوں کہ پیرس حملوں کی تحقیقات میں اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ فوریسٹ کا یہ اپارٹمنٹ خالد البکراوی نے کرائے پر حاصل کیا تھا۔ یہ وہ ہی شخص ہے جس نے شارلروآ میں بھی ایک محفوظ گھر کرائے پر لیا تھا، جس کو پیرس کے دہشت گردوں عبدالحمید اباعود، بلال حدفی، صلاح عبدالسلام اور ابراہیم عبدالسلام نے فرانسیسی دارالحکومت کا رخ کرنے سے قبل اکٹھا ہونے کے مقام کے طور پر استعمال کیا تھا۔ لہذا لازم تھا کہ پولیس اس اپارٹمنٹ کی تلاشی لیتی۔ اس دوران جوں ہی ایک افسر نے گھنٹی بجائی تو دروازہ کھلتے ہی ان پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی گئی۔ فوریسٹ کے اپارٹمنٹ میں تین مشتبہ افراد موجود تھے۔ ان میں الجزائری باشندہ محمد بلقاید جو ایک پولیس والے کے ہاتھوں مارا گیا اور اس کے بارے میں دستاویزات سے معلوم ہوا کہ وہ 19 اپریل 2014 کو داعش سے وابستہ ہوا تھا۔

اس نے شام میں ابو عبدالعزیز الجزائری کے نام سے لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ یورپ میں ایک خودکش حملے کی تیاری کررہا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر دو مشتبہ افراد اپارٹمنٹ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ میڈیا کا دعویٰ ہے کہ فرار ہونے والے افراد دو بھائی خالد البکراوی اور ابراہیم البکراوی ہیں۔