.

​برسلز: "ٹوپی والا شناخت"، دو ملزمان پر فرد جرم عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم میں استغاثہ نے دو افراد پر دہشت گردی، دہشت گرد جماعت کی سرگرمیوں میں شرکت اور قتل کی کارروائیاں کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ان میں ایک شخص کا نام فیصل شیفو اور دوسرے کا ابوبکر ہے۔

ادھر اٹلی میں حکام نے ہفتے کے روز ملک کے جنوبی علاقے سالیرنو میں الجزائر کے باشندے جمال الدین عوالی کو گرفتار کر لیا۔ اطالوی میڈیا نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ کارروائی بیلجیئن عدلیہ کی درخواست کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔

مذکورہ 40 سالہ شخص کو بیلجیئم کی جانب سے جاری گرفتاری کے یورپی وارنٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ یہ وارنٹ پیرس اور برسلز میں خودکش حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے جعلی دستاویزات کی تحقیق کے سلسلے میں جاری کیا گیا تھا۔

فیصل شیفو کون ہے؟

یہ برسلز ایئرپورٹ پر حملوں میں شریک تیسرا شخص ہے۔ اس کے دو ساتھیوں نجیم العشروای اور ابراہیم البکراوی نے خود کو ایئرپورٹ پر دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ منگل کے روز حملے سے کچھ دیر قبل سیکورٹی کیمرے کی تصویر میں ان تینوں مسافروں کو ایئرپورٹ کے اندر ایک ساتھ کھڑا ہوا دیکھا گیا تھا۔ فیصل شیفو وہ شخص ہے جس نے سفید کوٹ اور سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی۔

الحدث نیوز چینل کے رپورٹر نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شیفو بیلجیئن سیکورٹی اداروں کے لیے ریکارڈ میں معروف تھا۔ اس کو شام اور عراق میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والے ایک اہم ترین ایجنٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

رپورٹر کے مطابق تینوں مسافروں کو ایئرپورٹ پہنچانے والے ٹیکسی ڈارئیور نے ہی فیصل کو پہچانا۔

فیصل شیفو ان 6 افراد میں شامل تھا جن کو جمعرات کے روز حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان میں سے 3 کو رہا کر دیا گیا جب کہ بقیہ تین پر بیلجیئن استغاثہ کی جانب سے فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ یہ تین افراد فیصل، خالد اور مریم ہیں۔

واضح رہے کہ شیفو کی گرفتاری کو بیلجیئن حکام کے حق میں انتہائی نمایاں اور اہم پیش رفت شمار کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل حکام کو سیکورٹی میں غفلت برتنے کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

یاد رہے کہ منگل کی صبح دھماکوں سے چند منٹ قبل سیکورٹی کیمرے کی تصویر میں تین مسافر ایک ساتھ نظر آئے تھے۔ ان میں دو نے ایک سا لباس پہنا ہوا تھا جن کے نام ابراہیم البکراوی اور نجیم العشراوی ہیں۔ ان کے علاوہ انتہائی دائیں جانب نظر آنے والا شخص جس نے ٹوپی پہن رکھی تھی، اس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ اس نے ہی ان دھماکا خیز مواد کو نصب کیا تھا جس کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پھٹ نہیں سکے۔

فیصل شیفو کو بیلجیئم کے ایک اخبار کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی جانے والی ایک وڈیو میں دیکھا گیا تھا۔ اس وڈیو میں وہ ملک کے جنوب میں غیرقانونی مہاجرین کے مرکز کے سامنے بطور صحافی کام کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔