.

مصری طیارہ قبرص لے جانے والا ہائی جیکر گرفتار

عملے کے ارکان اور تمام مسافروں کو بہ حفاظت طیارے سے اتار لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکی فضائی کمپنی کا مسافر طیارہ اغوا کر کے قبرص لے جانے والے ہائی جیکر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

قبرصی حکومت کے ترجمان نیکوس کرسٹوڈولیڈیس نے ٹویٹر پر ہائی جیکر کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے لیکن انھوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔قبرص کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ہائی جیکر طیارے سے ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے باہر نکل آیا ہے۔

قبرص کے لارناکا ہوائی اڈے سے ایک فوٹیج نشر کی گئی ہے جس میں مصرائیر کے اغوا شدہ طیارے سے سات افراد نکل رہے ہیں۔ایک شخص کاک پٹ کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر آ رہا ہے اور دوسرے سیڑھی کے ذریعے دو گروپوں میں اتر رہے ہیں۔

مصری حکام نے قبل ازیں بتایا تھا کہ طیارے میں صرف سات افراد باقی رہ گئے ہیں۔مصر کے سول ایوسی ایشن کے وزیر شریف فتحی نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ طیارے میں ایک کپتان ،دو معاون ،ایک فضائی میزبان اور ایک سکیورٹی اہلکار رہ گیا ہے اور ان کے ساتھ تین غیر ملکی مسافر ہیں۔

مصری فضائی کمپنی کی پرواز ایم ایس 181 کو منگل کی صبح تاریخی شہر اسکندریہ سے قاہرہ کی جانب جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا اور اغوا کار نے اس کا رُخ قبرص کی جانب موڑ دیا تھا۔پھر اس کو لارناکا کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا تھا۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے ہائی جیکر کا نام سیف الدین مصطفیٰ بتایا ہے۔قبرص کی وزارت خارجہ نے بھی ایک ٹویٹ میں اس کی اسی نام سے شناخت کی ہے۔اس نے مبینہ طور پر لارناکا کے ہوائی اڈے پر ایک خط پھینکا تھا۔اس میں اس نے مصر میں قیدیوں کی رہائی اور خود کو قبرص میں پناہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

قبرص کے سرکاری ریڈیو کے مطابق اغوا کار کی ایک سابقہ اہلیہ قبرص ہی میں مقیم ہے اور اس نے عربی زبان میں لکھا گیا خط اس کو پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔مصر کے سرکاری میڈیا نے پہلے اغوا کار کو غلط طور پر ایک شہری ابراہیم سماحہ کے نام سے شناخت کیا تھا۔بعد میں اس غلط شناخت پر مصری حکومت نے ابراہیم سماحہ سے معذرت کی ہے۔

مصری میڈیا نے ابتدائی اطلاعات میں بتایا تھا کہ اغوا شدہ طیارے میں دس امریکی شہری اور آٹھ برطانوی بھی سوار تھے۔لارناکا کے ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد بیشتر مسافروں کو بہ حفاظت طیارے سے اتار لیا گیا تھا اور عملے کے بعض ارکان سمیت چند ایک مسافر ہی رہ گئے تھے۔

اس ائیربس 320 میں اکیس غیرملکیوں اور عملے کے پندرہ ارکان سمیت اکاسی افراد سوار تھے۔اس طیارے نے منگل کی صبح سوا سات بجے قاہرہ کے ہوائی اڈے پر اترنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی پائیلٹ نے قاہرہ ائیرپورٹ کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرکے طیارے کے اغوا ہونے کی اطلاع دے دی تھی۔

پھر ہائی جیکر نے اس کا رُخ قبرص کی جانب موڑ دیا تھا اور اسی نے قبرص کے کنٹرول ٹاور کو صبح ساڑھے آٹھ بجے وہاں پہنچنے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد قبرصی حکام نے آٹھ بج کر پچاس منٹ پر اس کو ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت دے دی تھی اور لارناکا کے ہوائی اڈے پر آنے والی معمول کی پروازوں کا رُخ مغرب میں واقع پافوس کے ہوائی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

قبرصی صدر نیکوس اناستاسیادیس نے دورے پر آئے ہوئے یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہائی جیکنگ کے اس واقعے کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قبرصی حکومت نے مسافروں کی بہ حفاظت رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔