.

احمدی نژاد 2017ء کے انتخابات میں قسمت آزمائی کے لیے تیار

’سابق صدر اصلاح پسندوں کی کامیابی پر سخت برہم ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق ایرانی صدر اور بنیاد پرست سیاست دان محمود #احمدی_نژاد ایک بار پھر صدارتی انتخابات کے لیے قسمت آزمائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ سنہ 2017ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں #حسن_روحانی کے مقابلے میں دوبارہ میدان میں اتریں گے۔

ایران کے ایک مقامی فارسی نیوز ویب پورٹل ’’انتخاب‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر نے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننے کی ٹھان لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حال ہی میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ دوبارہ الیکشن جیت کر بنیادی اشیاء پر سبسڈی 4 لاکھ 50 ہزار ایرانی ریال سے بڑھا کر 25 لاکھ ریال یعنی 71 ڈالر تک لے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کو سنہ 2013ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند رہ نما حسن روحانی کامیابی پر سخت غصہ تھا، ان کے اس غصے میں اس وقت اور بھی اضافہ ہو گیا جب کہ گذشتہ ماہ فروری میں ایران میں پارلیمنٹ اور رہبری کونسل کے انتخابات میں اصلاح پسندوں نے ایک بار پھر میدان مار لیا۔ اصلاح پسند رہ نماؤں محمد خاتمی، علی اکبر ہاشمی اور صدر روحانی کے حامیوں کی کامیابی پر احمدی نژاد سخت سیخ پا ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود احمدی نژاد حسن روحانی کے ساتھ مناظرے میں کامیاب رہنے کے بعد دوبارہ صدارتی انتخابات جیت سکتے ہیں، کیونکہ وہ ماضی میں بھی اپنے حریف سیاسی رہ نماؤں اور صدارتی امیدواروں کو چاروں شانے چت کرچکے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء کو جبری نظر کیے گئے اصلاح پسند رہ نماؤں مہدی کروبی اور حسین موسوی کا بھی احمدی نژاد کے ساتھ مقابلہ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ احمدی نژاد نے اپنی کامیابی یقینی بنانے کے لیے دھاندلی کا سہارا لیا تھا۔ جب اپوزیشن نے دھاندلی کے خلاف احتجاج شروع کرتے ہوئے سبز انقلاب کی تحریک برپا کی تو احمدی نژاد نے اصلاح پسند رہ نماؤں کو گھروں میں نظر بند اور حریف سیاسی کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔