.

ایران کے میزائل تجربات اقوام متحدہ قرارداد کی خلاف ورزی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل حالیہ میزائل تجربات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کی خلاف ورزی ہیں۔ گذشتہ سال جولائی میں منظور کردہ اس قرارداد کے ذریعے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے کی توثیق کی گئی تھی۔

امریکا ،برطانیہ ،جرمنی اور فرانس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور اقوام متحدہ میں متعیّن سپین کے سفیر کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے۔اس میں کہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے حالیہ تجربات سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ''حال ہی میں جن میزائلوں کے تجربات کیے گئے ہیں،وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل ہیں''۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل ایران کے خلاف قرارداد پر عمل درآمد نہ کرنے پر مناسب ردعمل پر غور کرے اور بین کی مون ایران کی جانب سے قرارداد 2231 کی پاسداری نہ کرنے کی رپورٹ کریں۔

واضح رہے کہ سپین کو قرارداد 2231 پر سلامتی کونسل میں مباحث کو مربوط بنانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔تاہم عالمی ادارے میں متعیّن سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر ان میزائل تجربات کی پاداش میں نئی پابندیاں عاید کرنے کا کیس بہت مضبوط نہیں ہے کیونکہ جولائی 2015ء میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی توثیق کے لیے منظور کی گئی قرارداد کی زبان بہت ہی مبہم ہے اور اس کی ہر فریق اپنے اپنے انداز میں وضاحت کررہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے میزائل تجربات اگرچہ اس قرارداد کی روح کے منافی ہیں لیکن یہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ملک روس یہ واضح کرچکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی حمایت نہیں کرے گا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ قرارداد نمبر 2231 کے تحت ایران کو ایسے میزائل تجربات کا حق حاصل ہے۔ اس قرارداد کے الفاظ میں پابندی کی اصطلاحیں استعمال نہیں کی گئی ہیں،اس لیے ایران اس کا پابند نہیں ہے۔دوسرا اس کے تحت ایسے میزائلوں کے تجربات آتے ہیں جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طے پائے معاہدے پر جنوری میں عمل درآمد کا آغاز ہوا تھا۔اس کے بعد ایران پر عاید عالمی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں اور اس کے منجمد اثاثے غیر منجمد کردیے گئے تھے لیکن اس پر اسلحہ اور بیلسٹک میزائلوں کی ٹیکنالوجی درآمد کرنے پر پابندی بدستور برقرار ہے۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے 9 مارچ کو دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔اس سے ایک روزپہلے اس نے فوجی مشقوں کے دوران مختصر ،درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ میزائل 300 کلومیٹر ،500 ،800 اور 2000 ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں۔ان تجربات سے دو ماہ قبل ہی امریکا نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی میں معاونت پر بارہ بین الاقوامی کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

یہ پابندیاں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی ایک خفیہ رپورٹ کی روشنی میں لگائی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے 10 اکتوبر2015ء کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے عماد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ یہ میزائل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران کا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کی خلاف ورزی تھا۔سلامتی کونسل کی 2010ء میں منظور کردہ قرارداد 1929 کے تحت ایران پر تمام بیلسٹک میزائلوں کے تجربات پر پابندی عاید تھی۔تاہم اس قرارداد کی مدت ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر جنوری میں عمل درآمد کے بعد ختم ہوگئی تھی۔اس کے بعد ایک نئی قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں ایران پر زوردیا گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں پر کوئی کام نہ کرے۔