.

قبرص: مصری طیارے کا ہائی جیکر عدالت میں پیش

ملزم مزید تفتیش کے لیے 8 روزہ ریمانڈ پر لارناکا پولیس کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایک مسافر طیارے کو منگل کے روز اغوا کرکے قبرص لے جانے والے ہائی جیکر کو آج بدھ کو لارناکا میں ایک عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور عدالت نے اس کو مزید تفتیش کے لیے آٹھ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

قبرصی پولیس نے عدالت کو بتایا ہے کہ اٹھاون سالہ مصری سیف الدین محمد مصطفیٰ کو ہائی جیکنگ ،لوگوں کو کسی نامعلوم مقام کی جانب لے جانے کے لیے اغوا کرنے، انھیں ڈرانے ،دھمکانے اور انسداد دہشت گردی قانون کے منافی جرائم پر فرد الزام عاید کی جاسکتی ہے۔

ملزم نے عدالت میں خاموشی اختیار کیے رکھی اور جب اس کو پولیس کی کار میں واپس لے جایا جانے لگا تو اس نے عدالت کے احاطے میں موجود صحافیوں کے سامنے فتح کا نشان بنایا۔

ملزم پر آیندہ سماعت تک کوئی فرد الزام نہیں عاید کی جائے گی اور اس موقع پر یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ پلی بارگین کے ذریعے کسی بڑی سزا سے بچ سکتا ہے۔قبرصی حکام کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ نفسیاتی طور پر غیر مستحکم ہے اور اس کے خلاف کیس دہشت گردی سے متعلق نہیں ہے۔

اس پر الزام ہے کہ اس نے مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ سے قاہرہ کی جانب جانے والے مسافر طیارے کا رُخ قبرص کے جنوبی شہر لارناکا کے ہوائی اڈے کی جانب پھیر دیا تھا اور اس کو دھماکا خیز مواد سے بھری بیلٹ سے اڑانے کی دھمکی دی تھی۔بعد میں اس کا بارودی بیلٹ پہننے کا دعویٰ غلط ثابت ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ہائی جیکر کے محرکات ذاتی تھے اور اس کی سابق قبرصی بیوی سے متعلق تھے۔اس کے اس بیوی کے بطن سے بچے بھی ہیں۔لارناکا کے ہوائی اڈے پر طیارے کی ہائی جیکنگ کا یہ ڈراما چھے گھنٹے تک چلتا رہا تھا اور حکام نے اس سے مذاکرات کے بعد مسافروں کو بہ حفاظت رہا کرالیا تھا۔

یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ہائی جیکر اپنی سابقہ بیوی سے ملاقات کا مطالبہ کرتا رہا تھا اور اس سے مذاکرات کے لیے اس کی بیوی کو بلایا گیا تھا۔ایک موقع پر اس نے طیارے میں موجود مسافروں کو چھوڑنے کے لیے مصری جیلوں میں قید افراد کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

مصر کی نیوز سائٹ اہرام آن لائن کے مطابق اس نے طیارے سے متعدد فون کالز کی تھی اور مصر کے سول ایوی ایشن کے وزیر شریف فتحی نے کہا تھا کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے بلکہ یہ شخص ذاتی اور ذہنی مسائل سے دوچار ہے۔

مصر میں سیف الدین مصطفیٰ کے ہمسایوں نے اس کو ایک گڑبڑ کرنے والا شخص قرار دیا ہے۔دارالحکومت قاہرہ میں مصطفیٰ کی ایک ہمسائی اُم اسامہ نے بتایا ہے کہ ''اس کی قبرصی بیوی اس سے جھگڑے کے بعد بچوں کو ساتھ لے کر واپس وطن چلی گئی تھی۔مجھے یہ توقع ہے کہ اس نے یہ سارا ڈراما بچوں تک پہنچنے کے لیے کیا ہے''۔