.

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ کی طرابلس آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ثالثی میں تشکیل پانے والی لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ فایز السراج اپنے چھے نائبین کے ہمراہ بحری سفر کے ذریعے دارالحکومت طرابلس پہنچ گئے ہیں۔

فایز السراج کو اقوام متحدہ کی ثالثی میں لیبیا کے متحارب فریقوں کے درمیان طے شدہ سمجھوتے کے تحت عبوری وزیر اعظم مقرر کیا گیا تھا۔انھوں نے ان متحارب دھڑوں کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود دارالحکومت میں پہنچنے کے بعد ایک بحری اڈے پر اپنی حکومت کے دفاتر قائم کرلیے ہیں۔

لیبیا کے ایک ملیشیا کمانڈر عبدالرحمان السوحیلی نے بتایا ہے کہ فایز السراج بدھ کو پڑوسی ملک تیونس سے بحری سفر کے ذریعے طرابلس آئے ہیں۔ لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں بھی ان کی آمد کی تصدیق کی گئی ہے۔

طرابلس میں قائم فجر لیبیا کی حکومت نے فایزالسراج اور دوسرے عہدے داروں کو فضائی سفر کے ذریعے طرابلس آنے سے منع کردیا تھا۔اس متحارب حکومت کے وزیر خارجہ علی ابو ذقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔قبل ازیں ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں اور اب وزیراعظم فایز السراج کی سربراہی میں ایک تیسری حکومت بن گئی ہے۔ دارالحکومت طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت حکومت قائم ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کی عمل داری ہے۔اس کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں۔