.

کانگریس کے باہر پستول لہرانے والا نبوت کا جھوٹا دعوے دار نکلا

رسل ڈاؤسن ایک مقامی گرجا گھر کا سابق پادری بھی رہ چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دو روز قبل امریکی #کانگریس کی عمارت میں سیاحوں کے لیے مختص جگہ میں پستول لہراتے ہوئے خوف و ہراس پھیلانے والے مشتبہ امریکی کے بارے میں چشم کشا معلومات سامنے آئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ کانگریس کی عمارت پر حملے کی کوشش کی وجہ سے پوری دنیا میں خبروں کا موضوع بننے والا امریکی ایک عیسائی پادری ہے جس نے ماضی میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ بھی کر رکھا ہے۔ امریکا کی ایک عدالت نے اس کے کانگریس کے احاطے میں داخل ہونے پر پابندی عاید کر رکھی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بھی جھوٹے مدعی نبوت کے بارےمیں ایک مفصل رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ موصوف کی عمر 66 برس اور نام Larry Russell Dawson بتایا جاتا ہے جو ایک شادی شدہ شخص ہے۔ #امریکا کی ریاست ٹینیسی کے شہر ’’انطاکیہ‘‘ کے رہنے والے رسل ڈاوسن ماضی میں بھی ایک متنازع شخصیت رہے ہیں۔ ایک بار انہوں نے عدالت میں بھرے مجمع میں اعلان کیا تھا کہ میں ’’میں اللہ کا نبی ہوں‘‘۔ اس پر عدالت نے انہیں کانگریس کی صدر دفتر کے قریب جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے یہ معلومات بھی ملی ہیں کہ کانگریس کی عمارت کے باہر پستول لہرا کر پولیس کو اپنی جانب متوجہ کرنے والےعیسائی پادری کے پاس اصلی نہیں بلکہ کھلونا پستول تھا۔ عیسائی پادری کو جہاں سے پکڑا گیا وہ جگہ کانگریس کے احاطے میں سیاحوں کے لیے مختص ہے اور عموما ایسٹر کے ایام میں لوگ وہاں چھٹیاں گذارنے آتے ہیں۔

عیسائی پادری نے ایک پولیس اہلکار پر کھلونا پستول تان لیا جس کے بعد پولیس کو جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ پولیس کی گولی کی زد میں ایک خاتون بھی آئیں جو زخمی ہوئی ہیں۔ کچھ گولیاں رسل ڈاوسن کو بھی لگی ہیں۔ بعد میں پولیس کو معلوم ہوا کہ ڈرانے دھمکانے والا امریکی اصل پستول سے لیس نہیں بلکہ ایک کھلونا پستول سے پولیس کو خوف زدہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

امریکی ٹی وی CNN نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو ڈرانے والے امریکی کے پاس Pellet Gun کھلونا پستول تھا جسے آتشیں اسلحہ میں شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس پستول سے چڑیا بھی نہیں مرسکتی۔

نبوت کا جھوٹا دعویٰ

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے امریکا میں خوف وہراس پھیلانے میں ملوث پادری کے ماضی پربھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ ماضی میں انطاکیہ کے ’’بناشفل‘‘ کےمقام پر میں قائم ’’القدیس لوقا‘‘ گرجا گھر کا متولی رہ چکا ہے۔ گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی پولیس نے اسے اس وقت حراست میں لیا تھا جب اس نے کانگریس کے مرکزی ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اسے ایک سیکیورٹی افسر نے روک دیا تھا۔ اس پر اس نے پولیس افسرپر بھی حملہ کرکے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بار بار تکرار کے ساتھ کہنے لگا کہ ’’میں اللہ کا نبی ہوں۔ میں انسانوں کے بنائے کسی قانون کو نہیں مانتا‘‘۔

اس وقت پولیس نے اسے وہاں سے بھگا دیا تھا تاہم بعد ازاں اس کےخلاف عدالت میں ایک مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے رسل ڈاؤسن کو کانگریس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ اس نے عدالت میں بھی یہ دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کا نبی ہے تاہم عدالت نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔