.

"ایف بی آئی" نے کیلیفورنیا حملہ آور کا آئی فون کیسے ڈیکوڈ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ادارے "ایف بی آئی" نے ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنرڈینو میں حملے کی کارروائی کرنے والے سید فاروق کے آئی فون کو ڈیکوڈ کر لیا ہے۔ اس طرح ایپل کمپنی کے ساتھ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی عدالتی جنگ کا بھی اختتام ہو گیا۔ ایپل کمپنی نے اس موبائل فون کو ڈیکوڈ کرنے اور اس کا پاس ورڈ کھولنے کے معاملے میں تحقیق کاروں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایپل کمپنی کی مصنوعات میں انتہائی درجے کی رازداری اور پوشیدگی کے باوجود "ایف بی آئی" نے اس آئیفون کو کس طرح ڈیکوڈ کر لیا؟

اس کامیابی کا سہرا جاسوسی کے جدید ترین ڈیجیٹل پروگرام PRISM کے سر ہے۔ یہ انتہائی خفیہ پروگرام 2007 سے امریکی قومی سلامتی کی ایجنسی NSA کے زیر استعمال ہے۔ اس سافٹ ویئر کی تیاری میں دنیا کی بڑی کمپنیوں نے حصہ لیا جن میں مائیکروسافٹ، یاہو، گوگل، فیس بک، یوٹیوب، اسکائپ اور ایپل شامل ہیں۔

یہ پروگرام PRISM یا جسے قومی سلامتی کی ایجنسیUS-984XN کا نام دیتی ہے، براہ راست رابطوں اور محفظ معلومات کی انتہائی باریک بینی کے ساتھ نگرانی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے الکٹرونک ہیکنگ پروگرام تیار کرنے والی کمپنی کے کسی بھی ایجنٹ کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سیکورٹی اداروں کو ای میلز، وڈیو چیٹ، آڈیو، تصاویر، فائلوں کی منتقلی کی کارروائیوں، سوشل میڈیا کے پروگراموں اور چیٹنگ ایپلی کیشنز تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

لہذا یہ پروگرام امریکی انٹیلجنس ایجنسیوں کے لیے اس امر کو ممکن بنا دیتا ہے کہ وہ جو معلومات بھی حاصل کرنا چاہیں وہ کرسکتی ہیں۔ اس کے لیے کسی بھی پیشگی سرکاری اجازت یا کمپنیوں کی آمادگی کی ضرورت نہیں۔ یہ پروگرام جاسوسی اور الکٹرونک معلومات کی ہیکنگ سے متعلق کارکردگی کے حوالے سے اپنی نوعیت کا منفرد سافٹ ویئر ہے۔